بہاولپور (سپیشل رپورٹر)بہاولپور میں سب رجسٹرا ر اور تحصیلدار سٹی کے گرد مبینہ طور پر قائم رجسٹری مافیا کے ایک اور بڑے سکینڈل نے ریونیو افسران کی کارکردگی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق شہر میں متعدد تعمیر شدہ مکانات کو کاغذات میں ’’خالی پلاٹ‘‘ ظاہر کر کے رجسٹریاں پاس کی جا رہی ہیںجس کے باعث حکومت روزانہ لاکھوں اور ماہانہ کروڑوں روپے کے ریونیو سے محروم ہو رہی ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض مشکوک رجسٹریوں کے حوالے سے شکایات سامنے آنے کے باوجود معاملات کو مؤثر انداز میں آگے نہیں بڑھایا جاتا۔ حال ہی میں سامنے آنے والے ایک کیس میں مبینہ طور پر سب رجسٹرار ظہور اعوان نے اپنے عملے کی مدد سے ایک تعمیر شدہ مکان کو خالی پلاٹ ظاہر کر کے رجسٹری پاس کی جس سے سرکاری خزانے کو تقریباً دس لاکھ روپے نقصان پہنچنے کا دعویٰ کیا گیا ہےاس معاملے کی جانچ کے دوران متعلقہ پٹواری شہزاد اسلم نےمؤقف اختیار کیا کہ جس رپورٹ کی بنیاد پر یہ رجسٹری منظور کی ہے وہ نہ اس کی تحریر کردہ ہے اور نہ ہی اس پر موجود دستخط اس کے ہیں اس بیان کے بعد انکوائری کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں دوسری جانب یہی رجسٹری جو موضع ڈیرہ عزت نیو صادق کالونی، کھاتہ نمبر 73 سٹی بہاولپور میں واقع 10 مرلہ ڈبل سٹوری مکان کو بھی رجسٹری ریکارڈ میں خالی پلاٹ ظاہر کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ مکان تقریباً 26 سال سے موجود ہے اور اس پر تین بجلی جبکہ دو سوئی گیس میٹر نصب ہیں۔بہاولپور کے رہائشی محمد اعجاز نے اس معاملے پر ڈائریکٹر اینٹی کرپشن بہاولپور کو درخواست دے دی ہےدرخواست کے مطابق ایک کروڑ چونتیس لاکھ پچاس ہزار روپے مالیت کے مکان کی رجسٹری مبینہ طور پر قواعد و ضوابط کے برعکس منتقل کی گئی درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ دو لاکھ روپے بقایا ہونے کے باوجود خریدار کے نام انتقال اور رجسٹری کا عمل مکمل کر دیا گیادرخواست میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ تعمیر شدہ جائیداد کو جان بوجھ کر خالی پلاٹ ظاہر کیا گیا تاکہ اسٹام ڈیوٹی اور دیگر سرکاری واجبات کم ادا کیے جا سکیں۔شہری اور سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، سیکرٹری بورڈ آف ریونیو پنجاب، کمشنر بہاولپور اور ڈائریکٹر اینٹی کرپشن سے مطالبہ کیا ہے کہ رجسٹریوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔اس سلسلے میں حلقہ پٹواری شہزاد اسلم کا موقف ہے کہ اس رجسٹری کی نہ میں نے رپورٹ کی ہے اور نہ ہی میرے دستخط ہیں جبکہ رجسٹری محرر نوازش علی کو خبر بھیج کر موقف معلوم کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ میں معلوم کر کے اپ کو بتاتا ہوں مگر تاحال انہوں نے اپنا موقف نہیں دیا۔







