امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر امریکا کی مداخلت نہ ہوتی تو اسرائیل بہت پہلے تباہ ہو چکا ہوتا اور اس کا وجود ممکن نہ رہتا۔
تفصیلات کے مطابق یہ گفتگو انہوں نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ملاقات کے دوران کی۔ اس موقع پر انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کی تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔
ٹرمپ کے مطابق ایران کے ساتھ کیا جانے والا معاہدہ ایک اہم پیش رفت ہے اور یہ ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے خلاف ایک مضبوط رکاوٹ ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ روس کو بھی اسی طرز کا معاہدہ کرنا چاہیے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں ایران کے ساتھ ایک منصفانہ ڈیل طے پائی ہے اور امریکا اس معاملے میں کوئی سرمایہ کاری نہیں کر رہا۔ انہوں نے قطر کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ خطے میں معاملات کو سنبھالنے میں قطر نے مثبت کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ان کی اولین ترجیح یہ ہے کہ ایران کبھی بھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ اس کے علاوہ انہوں نے اسرائیل کو بعض عسکری کارروائیوں کے حوالے سے اپنی ناپسندیدگی سے بھی آگاہ کیا اور کہا کہ وہ نیتن یاہو کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتے ہیں۔
ٹرمپ کے مطابق لبنان کے حالیہ حالات کو وہ ایک بڑا تنازع نہیں سمجھتے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ضرورت ہے۔







