اسلام آباد: معروف ڈرامہ نگار خلیل الرحمان قمر ایک ٹی وی پروگرام کے دوران خواتین پر تیزاب حملوں سے متعلق دیے گئے اپنے ریمارکس کے باعث شدید تنقید کی زد میں آ گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق پروگرام میں گفتگو کے دوران جب خواتین کے حقوق اور تیزاب گردی کے متاثرین کے مسائل پر بات ہو رہی تھی تو خلیل الرحمان قمر نے ایک جملہ کہا کہ ’’ایسا لگتا ہے جیسے مرد اپنی جیبوں میں تیزاب کی بوتلیں لے کر گھومتے ہیں‘‘، جسے بعد ازاں غیر مناسب اور حساس معاملے کو ہلکا لینے کے مترادف قرار دیا گیا۔
یہ تنازع اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب کوئٹہ میں ایک لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے کے حالیہ واقعے کا حوالہ سامنے آیا، جس کے بعد اس بحث نے دوبارہ زور پکڑ لیا کہ پاکستان میں تیزاب گردی جیسے سنگین جرائم آج بھی ایک بڑا سماجی مسئلہ ہیں۔ ناقدین کے مطابق ایسے بیانات متاثرہ افراد کے درد کو کم ظاہر کرتے ہیں اور معاشرتی شعور بیدار کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر بھی اس بیان کے خلاف شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں صارفین نے اسے غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے ریمارکس حساس معاملات پر سنجیدگی کے بجائے منفی اثر ڈالتے ہیں۔







