جنید اکبر کے بیان پر قومی اسمبلی میں ہنگامہ، حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے

اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اجلاس میں بجٹ پر بحث کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے ارکان کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا، جس میں سیاسی ماحول خاصا گرم رہا۔
پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی جنید اکبر خان نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ تیسری بار اسمبلی میں آئے ہیں اور اگر کسی کا حق چھین کر ایوان تک پہنچے ہیں تو ان پر بھی لعنت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایوان میں اکثر ارکان اداروں کے سربراہان کی تعریف اس امید پر کرتے ہیں کہ آئندہ بھی انہی کے ذریعے اقتدار حاصل کیا جا سکے گا۔
انہوں نے موجودہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت عوامی مسائل سے دور ہے اور فیصلے بھی بالواسطہ منظوری کے بعد کیے جاتے ہیں۔ جنید اکبر نے افغانستان کی سرحدی پالیسی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ سرحد بند ہونے سے تجارت متاثر ہوئی لیکن دہشت گردی میں خاطر خواہ کمی نہیں آئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں آئین، قانون اور اداروں کے تقدس کو نقصان پہنچایا گیا ہے جبکہ اختلاف رائے رکھنے والوں کو مختلف طریقوں سے دبایا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عدالتی نظام عوام کو انصاف فراہم نہیں کر سکتا تو اس پر بھاری اخراجات کا جواز نہیں رہتا۔
اس موقع پر پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی عبدالقادر پٹیل نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اداروں اور ان کی قیادت کی تعریف کارکردگی اور ملکی مفاد میں کیے گئے فیصلوں کی بنیاد پر کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ سیاسی اور عسکری قیادت نے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت کردار اجاگر کیا ہے اور ایسے اقدامات کیے ہیں جو طویل عرصے تک یاد رکھے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے خطے میں بڑے بحرانوں کو ٹالنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
عبدالقادر پٹیل نے مزید کہا کہ ان کی جماعت ہمیشہ ملکی مفاد کو ترجیح دیتی ہے اور فیصلے کسی سیاسی جماعت کے فائدے کے لیے نہیں بلکہ قومی مفاد میں کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کو بنیادی سہولیات میسر نہیں تو معاشی اعداد و شمار اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں۔
قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کا سلسلہ جاری ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں