بہاولپور (رپورٹ:مہر اجمل سہو) لال سونہارا نیشنل پارک کے لاڈم سر ون بلاک نمبر 1 میں لگی ہولناک آتشزدگی پر قابو پانے کے لیے ریسکیو 1122 اور محکمہ جنگلات کی کارروائیاں تاحال جاری ہیں تاہم رات گئے تک بھی مکمل طور پر آگ بجھانے میں کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ بعض مقامات پر آگ کی شدت میں کمی ضرور دیکھی گئی ہے لیکن مختلف حصوں میں دھواں اور شعلے بدستور موجود ہیں۔ خشک جھاڑیوں اور وسیع رقبے پر پھیلی آگ کے باعث فائر فائٹنگ آپریشن کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ متاثرہ علاقے تک بھاری مشینری اور پانی کی بروقت رسائی بھی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ ریسکیو اہلکار اور محکمہ جنگلات کا عملہ مسلسل آگ کو محدود کرنے اور مزید پھیلاؤ روکنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔دوسری جانب ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت پنجاب کی جانب سے فراہم کیا گیا ڈرون کیمرہ نگرانی اور آگ کے پھیلاؤ کی مانیٹرنگ کے لیے استعمال کیا جانا تھا تاہم مبینہ طور پر اس کی آپریشنل صلاحیت اور تکنیکی مسائل کے باعث اسے مؤثر طور پر استعمال نہیں کیا جا سکا۔بعض غیر مصدقہ اطلاعات میں یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ڈرون ہینڈلنگ کے دوران پیش آنے والی مشکلات کے باعث سامان کو نقصان پہنچا، تاہم اس حوالے سے سرکاری سطح پر کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی۔مقامی حلقوں کے مطابق آگ کے دوران جدید ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں جبکہ شہریوں نے ریسکیو آپریشن میں جدید آلات اور تربیت یافتہ عملے کی فوری دستیابی کا مطالبہ کیا ہے۔ادھر محکمہ جنگلات کے بعض افسران پر تنقید کا سلسلہ بھی جاری ہے، تاہم حکام کی جانب سے ان تمام الزامات کی تردید یا تصدیق نہیں کی گئی۔ مقامی سطح پر یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ واقعے کی آزادانہ اور اعلیٰ سطحی انکوائری کی جائے تاکہ آگ لگنے کے اسباب، نقصانات اور آپریشن میں پیش آنے والی مبینہ کوتاہیوں کی مکمل چھان بین ہو سکے۔ماہرین ماحولیات کے مطابق اگر بروقت اور جدید ذرائع سے مکمل کنٹرول نہ کیا گیا تو لال سونہارا نیشنل پارک کے قیمتی جنگلات، حیاتیاتی تنوع اور جنگلی حیات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا خدشہ برقرار رہے گا۔







