رحیم یارخان(بشیر احمد چوہدری سے )ضلع کونسل رحیم یار خان میں تحصیل رحیم یار خان کی 20 کروڑ 90 لاکھ روپے کے تخمینہ سےشروع ہونیوالی 14 ترقیاتی سکیموں ،میٹل روڈ،ٹف ٹائل،سیوریج ،سولنگ،پلوں کی تعمیر کے نام پر ایکسین اور سب انجینئرز کی کمیشن خوری اور کرپشن کا نیا پینڈورابکس کھل گیا،ایکسین اور سب انجینئرز نے پییرا اور ای ٹینڈرنگ قوانین اڑاتے ہوئے من پسند ٹھیکیداروں کو ترقیاتی سکیموں سے نواز ا،ٹھیکہ الاٹ کروانے،ورک آرڈر جاری کرنے،ترقیاتی کام شروع کرنے سے قبل ہی ایڈوانس بلوں کی ادائیگیوں کے نام پر کروڑوں روپے کی مبینہ کمیشن خوری نے لوکل گورنمنٹ کے ترقیاتی نظام پر سنگین سوالات کھڑے کردئیے،ایکسین اور سب انجینئرز نے 2،2 فیصد کمیشن وصول کرکے ورک آرڈر جاری کیا اور ٹھیکیداروں سے مبینہ ساز باز کرکے ترقیاتی اسکیمو ں میں ناقص میٹریل استعمال کرنے کی اجازت دی،ذرائع کے مطابق 14 ترقیاتی سکیموں میں متعدد سب انجینئرز ٹھیکیداروں کے سلیپنگ پارٹنر بھی نکلے،ڈپٹی کمشنر رحیم یارخان ظہیر انور جپہ،چیف آفیسر ضلع کونسل نصر اللہ ملک معاملات سے لاعلم نکلے۔تفصیل کے مطابق ضلع کونسل رحیم یارخان میں تحصیل رحیم یارخان کی 14 ترقیاتی اسکیموں پر خرچ ہونے والے 20 کروڑ 90 لاکھ روپے کے فنڈز مبینہ طور پرایکسین ضلع کونسل یاسر امین کی کرپشن، کمیشن خوری اور ناقص تعمیراتی کاموں کی نذر ہو گئے۔روزنامہ قوم کو موصول ہونے والی دستاویزات، لوکل گورنمنٹ کے ترقیاتی نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیئے ہیں،تحقیقات کے مطابق ترقیاتی اسکیموں کی منظوری اور ٹینڈرز کے مراحل میں ای ٹینڈرنگ قواعد کی مبینہ خلاف ورزی کرتے ہوئے مخصوص اور من پسند ٹھیکیداروں کو نوازا گیا، ذرائع کا دعویٰ ہے کہ لاکھوں روپے مالیت کے ورک آرڈرز جاری کرنے کے عوض بھاری کمیشن وصول کیا گیا جبکہ بعض منصوبوں میں کام شروع ہونے سے پہلے ہی بلوں کی منظوری کا عمل مکمل کر لیا گیا،دستاویزات کے مطابق تحصیل رحیم یارخان میں میٹل روڈز، ٹف ٹائلز، سیوریج، سولنگ، ڈرینج اور دیگر بنیادی سہولیات کی متعدد سکیموں کیلئے کروڑوں روپے مختص کئے گئے،ان میں بعض میٹل روڈ منصوبوں کی تخمینہ لاگت ایک کروڑ 20 لاکھ روپے جبکہ بعض دیگر منصوبوں کی لاگت اس سے بھی زیادہ ظاہر کی گئی۔”قوم”کو دستیاب سرکاری ٹینڈر نوٹس، دستاویزی ریکارڈ اور مقامی ذرائع سے حاصل معلومات کے مطابق ضلع کونسل رحیم یارخان کے تحت تحصیل رحیم یارخان میں 14 بڑے ترقیاتی منصوبوں کیلئے تقریباً 21 کروڑ روپے مختص کئے گئے،ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ای ٹینڈرنگ کے اصل مقصد یعنی شفاف مقابلے کو پس پشت ڈال کر مخصوص ٹھیکیداروں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی گئی جبکہ بعد ازاں ناقص میٹریل کے استعمال اور غیر معیاری تعمیرات کی راہ بھی ہموار کی گئی۔ضلع رحیم یارخان کی 14 ترقیاتی اسکیموں کی تفصیل کچھ اس طرح سے درج ذیل ہے،اسکیم نمبر 27رکن پور روڈ تا بستی براراں تخمینہ لاگت: 1 کروڑ 20 لاکھ روپے،اسکیم نمبر 28رکن پور روڈ تا بستی خادم خان دشتی تخمینہ لاگت: 1 کروڑ 20 لاکھ روپے،اسکیم نمبر 33رکن پور روڈ تا بستی فضل خان مستوئی تخمینہ لاگت: 50 لاکھ روپے،سکیم نمبر 34بستی جام اللہ بخش گنگا تا بستی محمد دین چانڈیا، بستی جام ناصر کہال تخمینہ لاگت: 1 کروڑ 50 لاکھ روپے،سکیم نمبر 35بستی میاں مصطفیٰ کے قریب 3-L مائنر پر پل کی تعمیرتخمینہ لاگت: 70 لاکھ روپے،اسکیم نمبر 36فتح مائنر پر دو پلوں کی تعمیرتخمینہ لاگت: 35 لاکھ روپے،اسکیم نمبر 37میونسپل کمیٹی کوٹ سمابہ میں سیوریج، سولنگ اور ٹف ٹائل منصوبہ تخمینہ لاگت: 3 کروڑ روپےاسکیم نمبر 38یونین کونسل میانوالی قریشیاں اور سردار گڑھ میں سیوریج، سولنگ، کلورٹس اور ٹف ٹائل تخمینہ لاگت: 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،اسکیم نمبر 39یونین کونسل محمد پور قریشیاں اور دولت پورتخمینہ لاگت: 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،اسکیم نمبر 40یونین کونسل حاجی پور اور تھل محمد خان تخمینہ لاگت: 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،اسکیم نمبر 46مسلم آباد، کوٹ کرم خان اور مرتضیٰ آباد میں سیوریج، ڈرینز، کلورٹس اور ٹف ٹائل تخمینہ لاگت: 4 کروڑ 50 لاکھ روپے،اسکیم نمبر 47مئومبارک، بلاقی والی اور تاج گڑ ھ تخمینہ لاگت: 4 کروڑ روپے،اسکیم نمبر 55موضع علی اکبر سنگھی میں ٹف ٹائل منصوبہ تخمینہ لاگت: 20 لاکھ روپے،اسکیم نمبر 56محلہ عارف خان، موضع نوان کوٹ میں میٹل روڈ، سولنگ اور سیوریج تخمینہ لاگت: 30 لاکھ روپے،ریکارڈ کے مطابق صرف دو اسکیمیں، نمبر 46 اور 47، مجموعی طور پر 8 کروڑ 50 لاکھ روپے کی ہیں، جو تمام 14 منصوبوں کے فنڈز کا بڑا حصہ بنتی ہیں۔ اسی طرح کوٹ سمابہ کی اسکیم نمبر 37 اکیلے 3 کروڑ روپے مالیت کی ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا ان منصوبوں میں استعمال ہونے والا میٹریل، تعمیراتی معیار اور پیمائشیں سرکاری اسٹیمیٹ کے مطابق ہیں یا نہیں؟ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بعض منصوبوں میں سڑکوں کی موٹائی، بیس کورس، اینٹوں، ٹف ٹائل اور سیوریج میٹریل کے معیار پر تحفظات موجود ہیں۔ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔متعلقہ حلقوں میں یہ سوال بھی گردش کر رہا ہے کہ آیا تمام منصوبوں میں پنجاب پروکیورمنٹ رولز اور ای پی اے ڈی ایس (EPADS) کے تحت حقیقی مسابقتی عمل اختیار کیا گیا یا مخصوص ٹھیکیداروں کو فائدہ پہنچانے کیلئے نظام کا غلط استعمال کیا گیا۔شہری حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ اور آڈیٹر جنرل پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ 21 کروڑ روپے کی ان 14 اسکیموں کا تھرڈ پارٹی فرانزک آڈٹ کرایا جائے، تمام ورک آرڈرز، پیمائشی کتابیں (MBs)، ادائیگیوں کا ریکارڈ اور کوالٹی کنٹرول رپورٹس قبضے میں لے کر تحقیقات کی جائیں۔اگر 21 کروڑ روپے واقعی عوام کی فلاح پر خرچ ہو رہے ہیں تو پھر ہر منصوبے کا معیار، شفافیت اور احتساب عوام کے سامنے کیوں نہیں لایا جا رہا؟۔







