ملتان (وقائع نگار ) نشتر ہسپتال ایک بار پھر لاکھوں روپے مالیت کے سامان چوری ہونے سے بچ گیا ۔ہسپتال انتظامیہ نے تقریبا دو سال قبل وارڈز کی تزئین آرائش کے دوران اتارے گئے لاپتہ 1196 پنکھوں کو برآمد کرکے باقاعدہ قبضے میں لے لیا ہے ۔جس کا ریکارڈ پراپر طریقے سے بھی تیار کرلیا گیا ہے تاکہ سرکار کوئی نقصان نا اٹھانا پڑے ۔جبکہ دوسری جانب 1196 پنکھوں کی چوری کا منصوبہ ساز سٹاف کی امیدوں پر پانی پھر گیا ہے ۔باوثوق ذرائع نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ نشتر ہسپتال انتظامیہ نے کچھ روز قبل خصوصی پلان کے تحت دو سال سے لاپتہ لاکھوں روپے مالیت کے 1196 پنکھوں کو ہسپتال کی حدود سے برآمد کرلیا ہے ۔جن کو انہوں نے قبضے میں لیکر پراپر ریکارڈ مرتب کیا ہے ۔اور ایک محفوظ مقام پر بھی منتقل کردیا گیا ۔ذرائع کے مطابق اگر ہسپتال انتظامیہ مذکورہ پنکھوں کو برآمد نا کرتا ۔تو ہوسکتا ہے یہ تمام پنکھے بھی چوروں کی موجیں کرواتے ۔جیسا کہ نشتر میڈیکل یونیورسٹی سے پہلے 1500 سو پنکھے چوری ہوئے تھے ۔جن کا آج سراغ نہیں لگ سکا ۔اور نہ ہی نشتر میڈیکل یونیورسٹی انتظامیہ تاحال پرچہ کروا سکی ہے ۔اور نہ ہی مقدمہ درج کرانے میں سیریس نظر آرہی ہے جبکہ دوسری جانب مقامی پولیس بھی اس بات پر آڑی بیٹھی کہ نشتر ہسپتال انتظامیہ نامعلوم ملزمان کی بجائے ملزمان کے ناموں کو نامزد کرے۔پھر مقدمہ درج ہوگا ۔ذدائو کا کہنا ہے کہیں ایسا نا ہو کہ پولیس اور نشتر ہسپتال کی بیچ میں یہ معمولی دب جائے ۔اور چوری مزید چوری کا پلان بناتے رہیں ۔واضح رہے نشتر میڈیکل یونیورسٹی نے ایک گول مول انکوائری رپورٹ بنائی ہے ۔جس میں چوری کرنے والے افراد یا اسوقت کے افسران کے ملوث یا غفلت ہونے بارے کوئی وضاحت نہیں ہے ۔یہاں پر بھی ایسا لگ رہا ہے جیسے کسی خاص کو طریقے سے بچایا گیا ہے ۔حالانکہ بتایا جارہا ہے پولیس میں مقدمہ ہونے کا سن کر کچھ ایسے افسران بھی ہیں جو اس وقت گھبراہٹ کا شکار ہیں کہیں یہ ٹینور کا معاملہ ہمارے کھاتے میں نا پر جائے ۔







