ملتان(شیخ نعیم ) ملتان میں ٹریفک حادثات کا سلسلہ نہ رک سکا۔ 24 گھنٹوں میں 68 حادثات، معصوم بچہ جاں بحق، ٹریفک پولیس خاموش تماشائی۔اولیاء کے شہر ملتان میں سڑکیں خون اگلنے لگیں اور ٹریفک حادثات کا جن بے قابو ہو گیا ہے۔ ریسکیو ذرائع کی جانب سے فراہم کردہ افسوسناک اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران شہر کے مختلف علاقوں میں 68 ہولناک ٹریفک حادثات پیش آئے، جن کے نتیجے میں متعدد لوگ شدید زخمی ہوئے اور درجنوں خاندانوں میں کہرام مچ گیا۔ ریسکیو ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ان تمام حادثات میں ہنگامی امداد فراہم کی گئی، تاہم ان میں سب سے المناک اوردلخراش پہلو ایک 8 سالہ معصوم بچے کی موت تھا، جو ایک تیز رفتار ٹریکٹر ٹرالی کے بے رحم ٹائروں تلے آکر موقع پر ہی دم توڑ گیا اور اس کے گھر میں صفِ ماتم بچھی ہوئی ہے۔حالیہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ شہرِ اولیاء کی اہم شاہراہوں سے لے کر گلی محلوں تک، ٹریفک پولیس کی جانب سے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہیں۔ قانون شکن عناصر کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے اور ٹریفک کا نظام مکمل طور پر درہم برہم نظر آتا ہے۔ شہر کی سڑکیں اس وقت موت کا کنواں بن چکی ہیں جہاں منچلوں کی جانب سے سرِعام ‘ون ویلنگ کی شکل میں موت کا کھیل کھیلا جا رہا ہے، جبکہ ‘ون وے کی کھلم کھلا خلاف ورزی اور حد سے تجاوز کرتی ‘تیز رفتاری روز کا معمول بن چکی ہے۔سب سے تشویشناک امر ‘کم عمر ڈرائیونگ اور ‘بغیر ڈرائیونگ لائسنس گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی بھرمار ہے، جس پر متعلقہ حکام نے مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ شہر بھر میں چنگچی رکشوں، بے ہنگم لوڈر رکشوں اور دیگر کمرشل وہیکلز نے اودھم مچا رکھا ہے، جو نہ صرف ٹریفک کی روانی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں بلکہ روزانہ درجنوں حادثات کا سبب بھی بن رہے ہیں۔اس تمام تر سنگین اور تشویشناک صورتحال کے باوجود، ٹریفک حکام تاحال قوانین کی دھجیاں اڑانے والے ان عناصر کی روک تھام کے لیے کوئی ٹھوس یا جامع حکمتِ عملی وضع کرنے میں بری طرح ناکام نظر آتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ نہ صرف سڑکوں پر قانون شکنی عروج پر ہے، بلکہ آؤٹ ڈور ڈیوٹی پر مامور ٹریفک اہلکاروں کی موثر مانیٹرنگ کا نظام بھی یکسر مفلوج ہو چکا ہے، جس کے باعث اہلکار چوکوں اور چوراہوں پر فرائض کی انجام دہی کے بجائے محض کاغذی کارروائیوں اور روایتی سستی تک محدود دکھائی دیتے ہیں۔ شہریوں نے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے اور ملتان کو حادثات کی آماجگاہ بننے سے بچانے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔







