واسا میگا پراجیکٹ میں میگا کرپشن، 46 کروڑ کے بوگس بل نے ادارہ کی ساکھ مٹی میں ملا دی

ملتان ( انویسٹی گیشن سیل) واسا ملتان کے 25 ارب روپے کے میگا پراجیکٹ میں کروڑوں روپے سمیٹنے کے لئے ایم ڈی سمیت واسا افسران کی رالیں ٹپکنے لگیں، گلگشت نارتھ ڈویژن میں بوگس بل کے ذریعے قومی خزانے پر شب خون مارنے کی ایم ڈی فیصل شوکت کی کوشش واسا ہی کے ایک اڈیٹر نے ناکام کر حکومت پنجاب 41 کروڑ روپیہ بچا لیا، ایم ڈی واسا فیصل شوکت کی چہیتی فرم نے ایس ڈی او فضل الرحمان کی ملی بھگت سے 46 کروڑ روپے کا ایک بوگس بل جمع کروا دیا جسے ہر مرحلے پر منظوری حاصل ہو گئی کنسلٹنٹس کی طرف سے ایک اڈیٹر کی نشان دہی پر کام دوبارہ چیک ہونے پر صرف پانچ کروڑ روپے کا نکلا اور اس طرح عملے کے ایک رکن کی نشاندہی پر ایک بوگس بل کے ذریعے سرکاری خزانے سے 41 کروڑ روپے لٹنے سے بچ گئے، تاہم ایم ڈی واسا فیصل شوکت نے قریبی تعلقات کے باعث بوگس بل جمع کروانے والی فرم کو بلیک لسٹ کرنے کے بجائے خاموشی اختیار کر لی اور ملبہ دوسروں پر ڈالنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں ۔ تفصیل کے مطابق واسا ملتان میں 25 ارب روپے کی میگا پراجیکٹ میں ہوشربا کرپشن کے انکشافات کا سلسلہ جاری ہے۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سیوریج ڈویژن نارتھ ملتان سٹی فیز 4 پیکج 3 میں پرانی آر سی سی سیوریج لائنوں کی تبدیلی کے کام میں ایس ڈی او فضل الرحمان کی ملی بھگت سے ایک آئی پی سی نمبر 1 تیار کی گئی جس کی مالیت 46 کروڑ 49 ہزار 680 روپے تھی جو کہ فیصل شوکت کے علاقے گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والی کنٹریکٹر فرم ایم ایس پرک احتشام ٹریڈرز جے وی کی جانب سے جمع کروائی گئی تھی، ذرائع کے مطابق جب مزکورہ آئی پی سی ڈی ایم ڈی ذیشان شوکت گوندل کے آفس کے پاس گئی تو انہوں نے شک گزرنے پر بل روک لیا اور اسے ریزیڈنٹ آڈیٹر انجینئرنگ کنسلٹنسی سروسز( ECSP) کو بھجوا دیا کہ منصوبے پر کئے گئے کام کی مقدار، معیار ، اور نرخوں کی مکمل جانچ پڑتال کی جائے اس کے ساتھ ساتھ بل آف کوانٹٹیز اور دیگر کنٹریکٹ دستاویزات کو ایلوکیشن کے مطابق تصدیق یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ، ڈی ایم ڈی کی جانب سے کنسلٹنٹ کو جاری مراسلے میں مزید کہا گیا کہ منصوبے کی تصدیق کے دوران ضروری میٹریل ٹیسٹنگ اور سائٹ انسپکشن بھی لازمی کی جائے جبکہ آئی پی سی کا تصدیقی عمل انجینئرنگ سٹاف کی نگرانی میں مکمل کرکے واپس متعلقہ آفس بھیجنے کی ہدایت کی گئی۔ باوثوق ذرائع کے جب کنسلٹنٹ نے مطلوبہ کام چیک کیا تو موقع پر آئی پی آئی کے مطابق اس کا سرے سے وجود ہی نہ تھا، صرف معمولی کام موقع پر موجود پایا گیا جس کا مبینہ طور پر بل پانچ کروڑ روپے بنایا گیا اور اسے واپس ڈی ایم ڈی آفس بھیجا گیا جس کے بعد وہ بل 46 کروڑ روپے کے بجائے صرف پانچ کروڑ روپے کا پراسس کرکے ایم ڈی واسا کو بھجوایا گیا جو انہوں نے لاہور بھجوا دیا اس طرح ڈی ایم ڈی کی عقلمندی کے باعث حکومت پنجاب کا 41 کروڑ روپے بچ گیا ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ بوگس بل جمع کروانے والی فرم پرک احتشام ٹریڈرز کے ایم ڈی فیصل شوکت کے ساتھ دیرینہ اور قریبی مراسم ہیں۔ مزکورہ فرم کے مالکان کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے اور ایم ڈی واسا فیصل شوکت بھی گوجرانولہ میں بطور ایم ڈی واسا کام کرکے آئے ہیں اس طرح ان کے پرک احتشام فرم مالکان کیساتھ بے حد قریبی مراسم ہیں اور وہ کمیشن سمیت ہر معاملے میں فیصل شوکت کے ساتھ ڈائریکٹ ہیں کہ بعض ذرائع تو یہ دعوی کرتے ہیں کہ مذکورہ کمپنی ایم ڈی فیصل شوکت کی پارٹنر شپ میں چل رہی ہے اسی لئے بوگس جمع کروانے کے باوجود فرم کو بلیک لسٹ نہیں کیا گیا، مذکورہ معاملے پر چند سوال سامنے آتے ہیں کہ ایم ڈی واسا نے جب پانچ کروڑ روپے کا بل لاہور بھجوایا تو اس کے ساتھ 46 کروڑ والی انوائس بھی موجود تھی تو اس پر انہوں نے بل لاہور کیوں بھجوایا اور کمپنی کو بلیک لسٹ کرنے کی کارروائی کیوں نہیں گئی ؟ کیا ایم ڈی واسا نے پوچھا کہ یہ آئی پی سی کس نے اور کیوں بنائی اور اس کا ذمہ دار کون ہے ؟ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پرک احتشام فرم کے ساتھ ساتھ ایس ڈی او گلگشت فضل الرحمان بھی ایم ڈی واسا کے چہیتے ہیں اور فضل الرحمان کو ایم ڈی فیصل شوکت نے چار مختلف عہدوں پر تعینات کر رکھا ہے اور وہ ان کے قابل اعتماد ،قریبی اور کماؤ پوت سمجھے جاتے ہیں اس لئے چہیتے افسر کی نگرانی میں چہیتی فرم کی بوگس اور جعلی آئی پی سی پر تاحال کوئی کارروائی نہیں کی گئی اور معاملے کو گول کرنے اور ملبہ دوسروں پر ڈالنے کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔ اس حوالے سے ایم ڈی واسا فیصل شوکت نے اپنے مؤقف میں بتایا کہ یہ سب جھوٹ اور بے بنیاد پروپیگنڈا ہے ، یہ تمام تر ذمہ داری ڈی ایم ڈی ذیشان شوکت کی بنتی ہے ۔

شیئر کریں

:مزید خبریں