بہاولپور،یزمان (تحصیل رپورٹر،نمائندہ خصوصی) لال سونہارا پارک میں ہولناک آگ بے قابو، قیمتی جنگلات اور جنگلی حیات شدید متاثرہورہے ہیں۔ لال سونہارا نیشنل پارک کے لاڈم سر ون بلاک نمبر 1 بیٹ نمبر 1 اور 2 میں لگنے والی ہولناک آگ پر رات گئے تک مکمل قابو نہیں پایا جا سکا۔ ریسکیو 1122 کی ٹیمیں اور محکمہ جنگلات کا عملہ مسلسل آگ بجھانے کی کوششوں میں مصروف رہا، تاہم تیز ہواؤں، خشک جھاڑیوں اور وسیع رقبے پر پھیلی آگ کے باعث کارروائیوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ذرائع کے مطابق آگ مختلف مقامات پر بدستور سلگ رہی ہے اور اس کے مزید پھیلنے کا خدشہ برقرار ہے۔ ریسکیو اہلکاروں اور محکمہ جنگلات کے عملے نے رات بھر فائر فائٹنگ اور آگ کو محدود کرنے کے لیے اقدامات کیے، تاہم وسیع جنگلاتی رقبہ اور محدود وسائل مؤثر کارروائی میں رکاوٹ بنے رہے۔مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ آگ کے باعث قیمتی جنگلاتی درخت، جھاڑیاں، نئی پلاٹیشن اور جنگلی حیات کو شدید نقصان پہنچا ہے جبکہ متاثرہ رقبے اور نقصانات کے حوالے سے مختلف اعداد و شمار سامنے آ رہے ہیں۔ شہری اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ نقصان کا درست تخمینہ لگانے کے لیے آزادانہ سروے کرایا جائے۔دوسری جانب بعض حلقوں نے محکمہ جنگلات کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ متعلقہ رینج میں آگ لگنے کے واقعات اور انتظامی امور کے حوالے سے پہلے بھی تحفظات سامنے آتے رہے ہیں۔موجودہ رینج افسر ممتاز سومرو کے خلاف ماضی میں مبینہ کرپشن کے الزامات کے تحت مقامی تھانہ اینٹی کرپشن بہاولپور میں مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا تاہم اس کے باوجود انہیں مذکورہ رینج میں تعینات رکھا گیا۔ شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ آگ کے واقعہ سمیت تمام انتظامی معاملات کی شفاف تحقیقات کر کے حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں۔ماہرین ماحولیات اور عوامی نمائندوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، چیف کنزرویٹر فاریسٹ، کمشنر بہاولپور اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ لال سونہارا آتشزدگی کے واقعہ کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور جنگلات کو آئندہ ایسے واقعات سے محفوظ بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر صورتحال پر فوری قابو نہ پایا گیا تو قیمتی جنگلاتی وسائل اور جنگلی حیات کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے۔







