راولپنڈی: شادی کا وعدہ کرکے بنکاک سے بلائی گئی خاتون سے مبینہ زیادتی، ملزم گرفتار-راولپنڈی: شادی کا وعدہ کرکے بنکاک سے بلائی گئی خاتون سے مبینہ زیادتی، ملزم گرفتار-پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی معاہدہ سعودی عرب کو مکمل تحفظ نہیں دے گا: ایرانی رکن پارلیمنٹ-پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی معاہدہ سعودی عرب کو مکمل تحفظ نہیں دے گا: ایرانی رکن پارلیمنٹ-پی ٹی آئی رہنما عبداللہ طاہر قتل کیس، مبینہ سہولت کار خاتون گرفتار-پی ٹی آئی رہنما عبداللہ طاہر قتل کیس، مبینہ سہولت کار خاتون گرفتار-گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کی ملک گیر غیرمعینہ ہڑتال شروع، حکومت سے مذاکرات کا انتظار-گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کی ملک گیر غیرمعینہ ہڑتال شروع، حکومت سے مذاکرات کا انتظار-جین زی کو ’گٹر جنریشن‘ کہنے والی کنگنا رناوت کا مؤقف بدل گیا، نوجوانوں کو ملک کی بڑی طاقت قرار دے دیا-جین زی کو ’گٹر جنریشن‘ کہنے والی کنگنا رناوت کا مؤقف بدل گیا، نوجوانوں کو ملک کی بڑی طاقت قرار دے دیا

تازہ ترین

مری سانحہ، جب ایک سفر اجتماعی ماتم بن گیا

مری ایکسپریس وے پر پیش آنے والا المناک حادثہ صرف ایک ٹریفک حادثہ نہیں بلکہ ہمارے ٹرانسپورٹ، نگرانی اور ایمرجنسی سیفٹی نظام کی ناکامی کا کربناک اظہار ہے۔ ملتان کے ایک ہی خاندان کے دس افراد، جن میں خواتین اور بچے شامل تھے، چند لمحوں میں آگ کی لپیٹ میں آ کر جاں بحق ہو گئے۔ سوتری وٹ میںعلمدار چوک میں جب دس جنازے ایک ساتھ اٹھے تو پورا علاقہ سوگ میں ڈوب گیا۔ یہ سانحہ محض غفلت نہیںیک اجتماعی سوال ہے کہ ہماری شاہراہوں پر مسافر کس کے رحم و کرم پر ہیں؟ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثے کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور مبینہ طور پر دروازے آٹو لاک ہو گئے، جس کے باعث اندر موجود افراد باہر نہ نکل سکے۔ عینی شاہدین نے شیشے توڑ کر چند بچوں اور خواتین کو نکالنے کی کوشش کی، مگر آگ کی شدت نے مزید امداد کو ناممکن بنا دیا۔ اگر گاڑی میں مناسب فائر سیفٹی انتظامات، ہنگامی اخراج کا قابلِ عمل نظام اور مسافروں کو بنیادی حفاظتی بریفنگ موجود ہوتی تو شاید نقصان اتنا ہولناک نہ ہوتا۔
سب سے تشویشناک پہلو وہ الزامات ہیں جن کے مطابق ڈرائیور مسلسل ڈیوٹی، شدید تھکاوٹ اور ناکافی آرام کے باوجود سفر پر بھیجا گیا۔ اگر یہ درست ہے تو یہ صرف ایک فرد کی غلطی نہیں بلکہ اس پورے غیر منظم نجی ٹور آپریٹر نظام کی ناکامی ہے جہاں ڈرائیوروں کے اوقات، فٹنس، آرام اور نگرانی کے لیے مؤثر ضابطہ موجود نہیں۔ ملتان اور جنوبی پنجاب میں گرمیوں کے سیزن میں غیر رجسٹرڈ یا کم نگرانی والے ٹور آپریٹرز کی بھرمار ایک کھلا راز ہے۔ سوال یہ ہے کہ ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے آخر کس مرحلے پر مداخلت کرتے ہیں؟ حادثے سے پہلے یا صرف جنازوں کے بعد؟یہ بھی افسوسناک ہے کہ حادثے کے بعد نجی آپریٹرز کے دفاتر بند ہونے اور ذمہ دار افراد کے غائب ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اگر ٹرانسپورٹ کاروبار صرف منافع کے لیے اور نگرانی کے بغیر چلایا جائے گا تو انسانی جانیں ہمیشہ سب سے سستی شے رہیں گی۔ اب ضرورت نمائشی نوٹسز کی نہیں بلکہ قابلِ نفاذ اصلاحات کی ہے۔
فوری اصلاحات ناگزیر:
1۔ تمام نجی ٹور آپریٹرز کی لازمی رجسٹریشن اور سالانہ آڈٹ۔
ّ2۔ ڈرائیوروں کے لیے ڈیجیٹل ڈیوٹی لاگ، زیادہ سے زیادہ ڈرائیونگ اوقات اور لازمی آرام کی شرط۔
3۔تمام مسافر ویگنز میں فعال فائر ایکسٹنگوئشر، ہنگامی اخراج، سیٹ بیلٹ اور آٹو لاک اوور رائیڈ میکانزم۔
4۔شاہراہوں پر موبائل انسپکشن یونٹس جو سفر سے قبل گاڑی اور ڈرائیور کی فٹنس چیک کریں۔
5۔ حادثات کی شفاف عدالتی یا جوڈیشل انکوائری اور نتائج کی عوامی اشاعت۔
6۔ٹورزم سیزن میں خصوصی نگرانی، ہیلپ لائن اور ریئل ٹائم ٹریکنگ نظام۔
یہ سانحہ محض افسوس کے چند بیانات سے بند نہیں ہونا چاہیے۔ اگر ایک خاندان کی دس قبریں پہلے سے موجود زمین میں ایک ہی دن آباد ہو جائیں اور ہم پھر بھی نظام نہ بدلیں تو اگلا ماتم صرف وقت کا سوال رہ جاتا ہے۔ پنجاب حکومت، ٹرانسپورٹ حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اخلاقی اور قانونی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس واقعے کو مثال بنائیں: مکمل تحقیقات، ذمہ داروں کا تعین، متاثرہ خاندان کی مؤثر معاونت، اور سب سے بڑھ کر ایسا ضابطہ جاتی ڈھانچہ جو کسی دوسرے گھر کے چراغ یوں ایک ساتھ بجھنے نہ دے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں