اٹھارہ ہزار 771 ارب کا وفاقی بجٹ پیش، سپر ٹیکس ختم، تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ، دفاع کیلئے 3 ہزار ارب

اسلام آباد(بیورورپورٹ،نیوزایجنسیاں)وفاقی وزیر خزانہ نے مالی سال 27-2026 کے لیے 18 ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش کردیا۔حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18 ہزار771 ارب روپے ہے جس میں سے 8054 ارب روپے صرف قرضوں پرسودکی ادائیگی کے لیے مختص ہوں گے۔سپرٹیکس ختم ،تنخواہ،پنشن میں7 فیصداضافہ کردیاگیا،کم ازکم ماہانہ اجرت 40 ہزار 700 مقرر کردی گئی۔دفاع کیلئے 3ہزارارب مختص کئے گئےہیں۔محصولات کا ہدف 15ہزار 267 ارب روپے مختص کیاگیا۔ جی ڈی پی کی شرح نمو کا ہدف 4 فیصد برقراررکھاگیا۔ترقیاتی بجٹ کیلئے ایک ہزار ارب روپے مختص کئےگئے۔جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی کردی گئی۔مہنگائی کی اوسط شرح 8.2فیصد رہنے کا تخمینہ ہے۔کرپٹو کرنسی کیلئےودہولڈنگ ٹیکس
میں کمی کی تجویزدی گئی ہے۔پاور سیکٹر سبسڈی کم کر کے 830 ارب،آئی پی پیز کو براہ راست ادائیگی ختم ،یوریا کھاد کی پیداوار و فراہمی کیلئے 5.8 ارب سبسڈی،پٹرولیم شعبے کیلئے رعایت آئندہ مالی سال ختم ،، وفاقی ٹیکس ریونیو کاتخمینہ5ہزار336ارب، وفاقی حکومت کی خالص آمدنی 11ہزار751ارب ہوگی۔بزنس کلاس سفر پر ٹیکس ختم،غیر ملکی اثاثوں پر کیپٹل ویلیو ٹیکس ختم،کارپوریٹ ٹیکس کی شرح میں کمی،27فیصدکردیا، ڈویلپرز پر عائد وِدہولڈنگ ٹیکس خریداری پر 2.5 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد اور فروخت پر 5.5 فیصد سے کم کر کے 2.75 فیصدمقرر، افراط زر کی اوسط شرح 8 اعشاریہ 2 فیصد کاامکان ہے۔انٹر ڈسکوز ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی کیلئے 248 ارب،کھیلوں کے انفراسٹرکچر کی ترقیکیلئے 1.851 اربمختص،سول انتظامیہ اخراجات1071ارب، پنشن1169 ارب، گرانٹس اور دیگر سکیموں کیلئے1091 ارب روپے مختص ،بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 3 اعشاریہ 6 فیصد رہنے کا امکان ہے۔صوبائی ترقیاتی پروگراموں 2 224 ارب ، سرکاری اداروںمیں سرمایہ کاری کیلئے451 ارب روپے شامل کئے گئےہیں۔سپیکر سردار ایاز صادق کی سربراہی میں قومی اسمبلی اجلاس میں تحریک انصاف کے ارکان نے نعرے بازی کی اورپلے کارڈز اٹھا کر احتجاج کیا۔تفصیل کے مطابق قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مالی سال 27-2026 کے لیے 18 ہزار 771 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کردیا۔سپیکر سردار ایاز صادق کی سربراہی میں ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس کے آغاز پر پاکستان تحریک انصاف کے ارکان نے نعرے بازی کی جب کہ آزاد ارکان نے پلے کارڈز اٹھا کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔بجٹ تقریر کا آغاز کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ میرے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے کہ میں اس معزز ایوان کے سامنے ہماری حکومت کا تیسرا بجٹ برائے مالی سال 27-2026 پیش کر رہا ہوں۔بجٹ میںمجموعی ترقیاتی بجٹ کے لیے 3675 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز،دفاعی بجٹ کے لیے تین ہزار ارب روپے مختص کرنے کی تجویز،سپر ٹیکس میں کمی کا اعلان کردیاگیا۔بجٹ میںپاور سیکٹر کیلئے سبسڈی میں کمی کر کے 830 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ،گردشی قرضے پر قابو پانے کے لیے 252 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش،کےالیکٹرک کے ٹیرف فرق کی مد میں سبسڈی 163 ارب روپے تک بڑھانے کی تجویز،آزاد کشمیر کے لیے ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی 81 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز،خیبرپختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کے لیے 34 ارب روپے سبسڈی مختص کرنے کی تجویز،بلوچستان کے زرعی ٹیوب ویلوں کے لیے 3 ارب روپے سبسڈی دینے کی تجویز،پاکستان انرجی ریوالونگ فنڈ کے لیے 48 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز،یوریا کھاد کی پیداوار و فراہمی کے لیے 5.8 ارب روپے سبسڈی کی سفارش،یو ایس سی کے بقایاجات کی ادائیگی کے لیے 23.2 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز،پیٹرولیم شعبے کے لیے سبسڈی آئندہ مالی سال میں ختم کرنے کی تجویز،انٹر ڈسکوز ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی کے لیے 248 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش،حقیقی ترقی کی شرح 4 فیصد افراط زر کی اوسط شرح 8 اعشاریہ 2 فیصد، بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 3 اعشاریہ 6 فیصد رہنے کا امکان،آئی پی پیز کو براہ راست ادائیگی ختم کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔حقیقی ترقی کی شرح 4 فیصد، افراط زر کی اوسط شرح 8 اعشاریہ 2 فیصد، بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 3 اعشاریہ 6 فیصد رہنے کا امکان ہے۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ میں اتحادی جماعتوں کی قیادت خصوصاً میاں محمد نواز شریف، بلاول بھٹو زرداری، خالد مقبول صدیقی، چوہدری شجاعت حسین، عبدالعلیم خان اور جناب خالد حسین مگسی کی رہنمائی کے لیے دل کی گہرائیوں سے شکرگزار ہوں۔یہ بجٹ ایک ایسے موقع پر پیش کیا جا رہا ہے جب پاکستان عالمی عوام اور ذرائع ابلاغ کی نظر میں ایک ایسے ملک کی حیثیت حاصل کر چکا ہے جس کی آواز سنی جاتی ہے اور جس کی دوستی کی خواہش کی جاتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ تبدیلی اتفاقاً نہیں آئی، اس کا آغاز گزشتہ برس مئی میں ہوا جب ہماری سرحدوں پر جارحیت کو پاکستان کی جانب سے ایسا جواب ملا کہ پوری دنیا کو نوٹس لینا پڑا۔ ہماری مسلح افواج نے دشمن کو ایسا منہ توڑ جواب دیا کہ وہ چند ہی گھنٹوں میں جنگ بندی کی بات کرنے پر مجبور ہوا۔ یہ کامیابی دہائیوں کی پیشہ ورانہ تربیت اور تیاری کا ثمر ہے۔ آپریشن ”سن آف الرووس“ کی کامیابی ہماری قومی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔آج دنیا پاکستانی دفاعی قوت کی معترف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری فضاؤں کا تحفظ کرنے والے تھنڈر جیٹس کو کئی ممالک اپنی فضائیہ میں شامل کرنے کے لیے پاکستان سے رابطے میں ہیں۔ ہماری دفاعی صنعت یقینی زرمبادلہ کمانے کا بھی ایک ذریعہ بن چکی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مضبوط دفاع نے نہ صرف ہماری سلامتی کے لیے اہم ہے بلکہ یہ ملک کی معاشی ترقی میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔اسی دفاعی قوت نے نہ صرف برّے بلکہ ذہنی طور پر بھی ہماری اسٹریٹجک شراکت داری کے نقشے کو نئے سرے سے ترتیب دیا ہے۔ میں خصوصی طور پر پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک میوچل ڈیفنس ایگریمنٹ کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ ہمارے دونوں ممالک کے درمیان ایمان اور بھائی چارے کا رشتہ پہلے سے موجود تھا۔ تاہم اس باضابطہ دفاعی معاہدے کی وجہسے خادمین حرمین شریفین کے ساتھ ہمارے تعلقات اور برادرانہ رشتوں کو ایک نئی اور مستحکم بنیاد ملی ہے۔ یہ ہمارے لیے ایک بہت بڑا اعزاز ہے لیکن ساتھ ہی ہمارے لیے ایک بھاری اور مقدس ذمہ داری ہے جسے نبھانے کے لیے ہم پورے عزم اور یقین کے ساتھ سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہیں۔ہمارے تعلقات میں یہ اہم تبدیلی ہماری قیادت کی رہین منت ہے جس کے لیے وزیر اعظم پاکستان، فیلڈ مارشل اور ہماری پوری سفارتی اور عسکری قیادت یقیناً شکر کے مستحق ہیں۔پاک چین تعلقات ہماری خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہیں۔ یہ دوستی ہمالیہ سے بلند، سمندر سے گہری اور شہد سے میٹھی ہے۔ چین پاکستان کا سب سے اہم تجارتی شراکت دار ہے۔میں عالمی معیشت کے چیلنجز پر بات کرنا چاہوں گا۔ اس چیلنج کی وجہ سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں عالمی منڈیوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ روس یوکرین جنگ کی بنا پر یہ اور دیگر معاشی دباؤ آئے۔ آج یہ مسئلہ اتنا سنگین ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں معیاری عالمی منڈی کی اپنی دہائی کی اونچائی سے کہیں زیادہ ہیں۔اگر حکومت اس چیلنج کے پورے بوجھ کو عام آدمی پر منتقل کر دیتی تو یہ قیمتیں اس سے کہیں زیادہ ہوتیں۔ اسی لیے وزیر اعظم پاکستان کی ہدایت پر حکومت نے ایک سو اٹھائیس (128) ارب روپے کی معاشی ڈھال کے ذریعے عام آدمی کو ریلیف دیا۔ جسے بعد میں ٹارگٹڈ سبسڈیز کے ذریعے مزید بہتر کیا گیا۔ جس کے ذریعے ضرورت مند افراد کو پٹرول مصنوعات کی قیمتوں میں ریلیف دیا جائے گا اور آگے بھی دیا جاتا رہے گا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ مالی سال 27-2026 کے لیے حقیقی ترقی کی شرح چار (4) فیصد رہنے کا امکان ہے۔ افراط زر کی اوسط شرح آٹھ اعشاریہ دو (8اعشاریہ2) فیصد متوقع ہے، بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا تین اعشاریہ چھ (3اعشاریہ6) فیصد رہے گا۔2027-28 اور 29-2028 کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مشاورت سے اسی نوعیت کی بنیادوں پر اس کی تجدید کی جائے گی، وفاقی ٹیکس ریونیو کا تخمینہ پانچ ہزار تین سو چھتیس (5336) ارب روپے ہو گا، وفاقی حکومت کی خالص آمدنی گیارہ ہزار سات سو اکیاون (11751) ارب روپے ہوگی۔وفاقی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ اٹھارہ ہزار سات سو اکتر ارب روپے ہے، جس میں سے آٹھ ہزار چون ارب روپے مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص ہوں گے، وفاقی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے ایک ہزار ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔وفاقی حکومت کے جاری اخراجات کا تخمینہ سترہ ہزار چار سو پچانوے ارب روپے ہے، قومی دفاع حکومت کی اہم ترین ترجیح ہے۔ اس قومی مفاد کے لیے تین ہزار ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں۔سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے ایک ہزار اکتر (1,071) ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں۔ پنشن کے اخراجات کے لیے ایک ہزار ایک سو انہتر (1169) ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ گرانٹس اور دیگر سکیموں کے لیے ایک ہزار اکانوے (1091) ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں۔وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے قومی دفاع کے لیے تین ہزار ارب روپے مختص کر دیے ہیں، بجٹ دستاویزات کے مطابق دفاع کو حکومت کی اہم ترین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ خطے کی غیر یقینی صورتحال اور قومی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے لیے دفاعی شعبے کے بجٹ میں معمولی اضافہ کیا جا رہا ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ دفاعِ وطن کو ناقابلِ تسخیر بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اسی لیے دفاعی بجٹ میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔وفاقی نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 5ہزار 336ارب روپے ہوگا۔وزیر اعظم اپنا گھر سکیم کے لئے 71ارب روپے مختص ، 6 شعبوں کیلئے سپر ٹیکس مکمل طور پر ختم ،دفاعِ وطن کو ناقابلِ تسخیر بنانا حکومت کی اولین ترجیح ، اسی لئے دفاعی بجٹ میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔وفاق کے کل اخراجات کا تخمینہ 18ہزار 771ارب روپے ہے، وزیر خزانہ نے کہا کہ کل اخراجات میں 8ہزار 54ارب روپے صرف سود کی ادائیگی کے لئے مختص ہونگے، وزیر اعظم اپنا گھر سکیم کے لئے 71ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ 6 شعبوں کیلئے سپر ٹیکس مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، انہوں نے کہا کہ 15 کروڑ سے 50 کروڑ روپے سالانہ کمانے والوں پر 1 سے 7 فیصد سپر ٹیکس عائد تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ 50 کروڑ روپے سے زائد آمدنی پر سپر ٹیکس کی شرح بھی 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔وزیرِ خزانہ کے مطابق اس اقدام کا مقصد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں اور صنعتوں کو فروغ دینا، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا اور کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنا ہے۔تاہم انہوں نے واضح کیا کہ بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں اور کھاد ساز کمپنیوں پر عائد موجودہ سرچارج بدستور برقرار رہے گا۔وزیرخزانہ نے بتایا کہ حکومت نے ایک اور ریلیف کے تحت بزنس کلاس پر غیر ملکی صفر پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے کی تجویز ہے۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں غیر ملکی اثاثوں پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس کا خاتمہ کیا جارہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اقدام سے پاکستانیوں کو غیر ملکی مالی اثاثے ریکارڈ پر لانے کی حوصلہ افزائی ملے گی۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ہماری حکومت نے بڑے کاروباروں پر ٹیکس کی شرح میں مزید کمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پچھلے بجٹ میں ہم نے 29 فیصد سے کم کر کے 28 فیصد کیا تھا اور اب اسے مزید کم کر کے 27 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس اقدام کا مقصد چھوٹے کاروبار اور صنعتوں کو فروغ دینے کے علاوہ کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنا ہے۔ تاہم بینکوں، تیل اور گیس تلاش کرنے والی کمپنیوں اور فرٹیلائزر کمپنیوں پر موجودہ سرچارج برقرار رہے گا۔پاکستان کی معیشت میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور صنعتی ترقی کا پہیہ تیز کرنے میں کنسٹرکشن سے بڑھ کر کوئی شعبہ نہیں ہے۔ جب کنسٹرکشن کا شعبہ ترقی کرتا ہے تو سیمنٹ، لوہا، شیشہ، پلاسٹک، پینٹس، ہارڈویئر اور چالیس سے زائد صنعتیں فروغ پاتی ہیں۔ ڈویلپرز پر عائد وِدہولڈنگ ٹیکس کو معقول بناتے ہوئے بلڈرز کے لیے خریداری پر ٹیکس 2.5 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد اور فروخت پر ٹیکس 5.5 فیصد سے کم کر کے 2.75 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اس اقدام سے کنسٹرکشن کی سرگرمیاں زور پکڑیں گی اور تعمیرات کا شعبہ فروغ پائے گا۔ڈیجیٹل معیشت پاکستان کا سب سے تیزی سے بڑھتا ہوا برآمدی شعبہ ہے۔ پاکستان کا IT اور IT سے متعلقہ خدمات کا شعبہ اور ہمارے فری لانسرز، سافٹ ویئر ہاؤسز اور ڈیجیٹل کمپنیاں ہمارا اثاثہ ہیں۔ IT برآمدات کی آمدنی پر 0.25 فیصد FTR کی رعایت 30 جون 2026 کو ختم ہونے والی تھی۔ وزیر اعظم کی اس شعبے کی ترقی میں دلچسپی اور حکومت کی جانب سے صنعتی اداروں کی سفارش پر اس رعایت کو مزید تین سال کے لیے یعنی 30 جون 2029 تک جاری رکھنے کی تجویز ہے۔ اس اقدام سے ہماری آئی ٹی برآمدات بڑھیں گی اور نوجوانوں کو اس شعبے کی جانب راغب ہونے کی ترغیب ملے گی۔ایکسپورٹ سیکٹر ہماری معیشت کی خوشحالی کی ضامن اور زرمبادلہ کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ اس وقت ایکسپورٹس پر ایڈجسٹ ایبل منیمم ٹیکس کی شرح دو فیصد ہے جسے کم کر کے 1.25 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔اس وقت ملک میں کام کرنے والی کرپٹو ایکسچینجز پر ہر ٹرانزیکشن پر 5 فیصد وِدہولڈنگ ٹیکس عائد ہے۔ اس ٹیکس کی وجہ سے رقم کی منتقلی کے لیے غیر رسمی ذرائع کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ اس کی بجائے وِدہولڈنگ ٹیکس کی اس شرح کو نصف فیصد (0.5%) کرنے کی تجویز ہے تاکہ اس معاملے کی مالی حالت پر بہتری آئے اور ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینے کی حکومتی کوششوں کو تقویت ملے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ 10 جون 2026 کو منعقدہ نیشنل اکنامک کونسل کے اجلاس میں مالی سال 2026-27 کے لیے قومی ترقیاتی پروگرام کی منظوری دی گئی، جس کا حجم تین ہزار چھ سو پچہتر (3,675) ارب روپے ہے۔اس میں وفاقی ترقیاتی پروگرام کے لیے ایک ہزار ارب روپے، صوبائی ترقیاتی پروگراموں کے لیے دو ہزار دو سو چوبیس ارب روپے اور سرکاری اداروں (SOEs) میں سرمایہ کاری کے لیے چار سو اکیاون (451) ارب روپے شامل ہیں۔ یہ تقسیم آئین کی 18ویں ترمیم کے بعد کی نئی تقسیم کا عکاس ہے جس کے تحت ترقیاتی شعبوں کی زیادہ تر ذمہ داری صوبوں کو منتقل ہو چکی ہے جبکہ وفاق خاص طور پر اہم قومی نوعیت کے فلیگ شپ منصوبوں پر توجہ مرکوز رکھتا ہے۔وفاقی ترقیاتی پروگرام کا ساٹھ (60%) فیصد سے زائد حصہ بنیادی ڈھانچے جیسے ٹرانسپورٹ، انرجی، آبی وسائل اور توانائی پر مرکوز ہے جبکہ باقی حصہ تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی، زراعت، صحت اور دیگر اہم شعبوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ یہ اہم منصوبہ ”ترقی کا پاکستان“ اور نیشنل اکنامک ٹرانسفارمیشن پلان کی بنیاد پر ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔ اب میں ان شعبوں کی تفصیل پیش کرتا ہوں۔شاہراہوں، ریل اور بندرگاہوں کی ترقی ہماری ترجیحات میں سرفہرست ہے۔ وفاقی ترقیاتی بجٹ 2026-27 میں ٹرانسپورٹ اور مواصلات کے شعبے کے لیے سب سے زیادہ تین سو پینسٹھ (365) ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ان میں کراچی کو اندرون ملک سے ملانے والی شاہراہ N-25 سرِ فہرست ہے۔اسی طرح M-6 (سکھر-حیدرآباد موٹروے) کی تعمیر کے لیے ADB سے 30 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ ML-I (پشاور-کراچی ریلوے لائن) کے اپگریڈیشن کے لیے 25 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ گوادر بندرگاہ اور دیگر صوبوں میں ٹرانسپورٹ کے منصوبوں کے لیے 93 ارب سے زائد رقم مختص کی گئی ہے۔ قابل اعتماد، سستی اور پائیدار توانائی کی فراہمی اس حکومت کا عزم اور معیشت کی بنیادی ضرورت ہے۔ وفاقی ترقیاتی پروگرام 2026-27 میں بجلی کے شعبے کے لیے ایک سو سولہ اعشاریہ دو (116.2) ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس میں ہائیڈل پاور منصوبے، تھرمل پاور منصوبے، ٹرانسمیشن لائنوں کی تعمیر نو اور نئے ہائیڈل پاور منصوبے شامل ہیں۔ قابل تجدید توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے دس اعشاریہ دو (10.2) ارب اور تین (3) ارب روپے شامل ہیں۔خصوصی اکنامک زونز میں بجلی کی فراہمی کو ترجیح دی گئی ہے۔ شمسی اور ہوا سے بجلی کے نو (09) منصوبوں کے لیے WAPDA کو پچاس اعشاریہ دو (50.2) ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں آٹھ (8) ہائیڈل پاور منصوبوں کے لیے تیرہ اعشاریہ ایک ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ پہلے سے زیرِ تعمیر WAPDA اور نجی شعبے کے اپنے افرادی وسائل سے ایک سو اٹھاون (158) ارب روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔پاکستان کو اپنے بڑے اسٹوریج منصوبوں کی فوری ضرورت ہے کیونکہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے آنے والے سیلاب نے ہماری زراعت اور معیشت کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس نقصان نے ہمیں اس شعبے میں مزید سرمایہ کاری کی ضرورت کا احساس دلایا ہے۔اسی لیے وفاقی ترقیاتی بجٹ میں پانی کے منصوبوں کے لیے ایک سو تین اعشاریہ ایک (103.1) ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ سب سے اہم منصوبوں میں ڈائمر بھاشا ڈیم کے لیے چودہ (14) ارب روپے، موہنڈ ڈیم کے لیے پندرہ (15) ارب روپے، داسو ہائیڈل پاور کے لیے اٹھائیس (22) ارب روپے اور کراچی کے بڑے پیمانے پر پانی کے منصوبے (K-4) کے لیے دس (10) ارب روپے شامل ہیں۔پاکستان کی شہری آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ 2035 تک ہماری تقریباً نصف آبادی شہری علاقوں میں مقیم ہوگی۔ شہری مراکز (55%) لاکھوں سے زائد روزگار فراہم کرتے ہیں اور جی ڈی پی میں چون اعشاریہ چھ فیصد حصہ ہیں۔ وفاقی ترقیاتی بجٹ میں پائیدار شہری ترقی اور ہاؤسنگ کے شعبے کے لیے چون اعشاریہ چھ (54.6) ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔صنعتی ترقی اور برآمدی مسابقت کی صلاحیت بڑھانے کے لیے وفاقی ترقیاتی پروگرام 2026-27 میں صنعت اور تجارت کے لیے تقریباً چھ اعشاریہ چھ (6.6) ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کا سب سے بڑا حصہ کراچی انڈسٹریل پارک کی تعمیر و ترقی پر صرف ہو رہا ہے۔ کراچی، لاہور اور سیالکوٹ میں انڈسٹریل ڈیزائننگ اور انوویشن کے مراکز قائم کیے جا رہے ہیں۔سیالکوٹ میں ڈینٹل اور سرجیکل آلات کے سپورٹ سینٹر کے ذریعے ہم اپنی برآمدی صنعتوں کے معیار کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسی طرح SMEDA کے تحت ٹیکسٹائل کے شعبے میں ایک ہزار (1,000) انڈسٹریل سٹیچنگ یونٹس کے دوسرے مرحلے کی توسیع ہو رہی ہے جس سے اضافی برآمدات اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔مجموعی طور پر سکول اور کالج کی تعلیم کے لیے چھبیس اعشاریہ تین (26.3) ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جس میں اساتذہ کی تربیت، اسکولوں میں داخلوں کی تعداد بڑھانے، ابتدائی بچپن کی تعلیم کی توسیع اور ڈیجیٹل لرننگ کا فروغ شامل ہے۔ اسی طرح نوجوانوں کی ہنرمندی اور روزگار کے لیے NAVTTC کے ذریعے وزیر اعظم یوتھ سکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت سات اعشاریہ نو (7.9) ارب روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ ہر پاکستانی نوجوان کے پاس وہ ہنر ہو جو اکیسویں صدی کی معیشت میں قدم رکھنے کے قابل بنائے۔وفاقی حکومت نے بین الصوبائی رابطہ ڈویژن کے تحت کھیلوں کے انفراسٹرکچر کی ترقی کے منصوبوں کے لیے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) 2026-27 میں تقریباً 1.851 ارب روپے مختص کیے ہیں، جو ملک بھر میں کھیلوں کی سہولیات کو بہتر بنانے کے حکومتی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔پی ایس ڈی پی دستاویزات کے مطابق مجموعی طور پر 13 جاری ترقیاتی منصوبے موجودہ سال کے ترقیاتی پروگرام میں شامل کیے گئے ہیں، جن کی مجموعی منظور شدہ لاگت 9.508 ارب روپے ہے۔ 30 جون 2026 تک ان منصوبوں پر 4.356 ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، جبکہ 5.151 ارب روپے کی رقم آئندہ مالی سال کے لیے منتقل کی گئی ہے۔اہم منصوبوں میں پاکستان اسپورٹس کمپلیکس اسلام آباد میں ارشد ندیم اور شہباز شریف ہائی پرفارمنس اسپورٹس اکیڈمی کا قیام شامل ہے، جس کے لیے 250 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ یہ منصوبہ 27 جنوری 2025 کو سی ڈی ڈبلیو پی سے منظور ہوا تھا اور اس کی کل لاگت 895.087 ملین روپے ہے۔اسی طرح جنوبی ایشیائی کھیلوں کے لیے پاکستان اسپورٹس کمپلیکس اسلام آباد میں مختلف سہولیات کی فراہمی کے لیے 134.832 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ان سہولیات میں وارم اپ ٹریک، ہیٹ ایکسچینجر، کوچز کے رہائشی فلیٹس، کثیرالمقاصد ہالز، فینسنگ، فائیو اے سائیڈ ہاکی گراؤنڈ، فٹبال گراؤنڈز اور ماسٹر پلاننگ شامل ہیں۔اس منصوبے کی مجموعی لاگت 769.391 ملین روپے ہے، یہ فنڈز اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حکومت کھیلوں کے انفراسٹرکچر کو جدید بنانے، ایلیٹ کھلاڑیوں کے لیے تربیتی سہولیات کو بہتر بنانے اور قومی و صوبائی سطح پر کوچنگ کی صلاحیت میں اضافے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے، تاکہ مستقبل میں بین الاقوامی کھیلوں کے بڑے مقابلوں کی بہتر میزبانی اور تیاری ممکن بنائی جا سکے۔حکومت نے بجٹ تقریر میں بتایا ہے کہ ایس آئی ایف سی کے تحت 12 مختلف شعبوں میں مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے منصوبوں کو وسعت دی گئی ہے اور ان اقدامات کے واضح نتائج سامنے آ رہے ہیں۔مزید بتایا گیا ہے کہ ویئر ہاؤسنگ کے شعبے کو باضابطہ طور پر صنعت کا درجہ دیا گیا ہے جس سے سپلائی چین کی لاگت کم ہوگی اور دیگر صنعتی شعبوں کو فائدہ پہنچے گا۔ بجٹ کو ایک واضح اور بامقصد حکمت عملی کے تحت تیار کیا گیا ہے جس کی بنیادی ترجیح پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور برآمدات کا فروغ ہے۔ حکومت برآمدی صنعتوں کو ٹیکس مراعات اور ایکسپورٹ فنانس اسکیم کے ذریعے مالی معاونت فراہم کر رہی ہے تاکہ ایکسپورٹرز بین الاقوامی منڈیوں میں بہتر مقابلہ کر سکیں۔اس کے ساتھ برآمدات میں اضافے کو زرمبادلہ کے ذخائر کی مضبوطی، روزگار کے مواقع اور معاشی خوشحالی سے جوڑا گیا ہے۔ زراعت کو معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے اس کے فروغ اور کسانوں کو آسان قرضوں کی فراہمی کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔صنعتی شعبے کی ترقی کو روزگار میں اضافے کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے جبکہ بجٹ کی ایک اہم خصوصیت ٹیکس ریونیو میں اضافہ کو ماضی کے بجائے کمپلائنس اور انفورسمنٹ کے ذریعے یقینی بنانا بتایا گیا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں