کوٹ ادو (نامہ نگار) کوٹ ادو عمران مانی قتل کیس عدالت نے قبر کشائی کی درخواست منظور کرلی ۔گزشتہ سال انعم بشیر نامی لڑکی کے اغوا کا مقدمہ تھانہ سٹی کوٹ ادو میں درج ہوا کیس کی نگرانی اے ایس آئی سعیدہ خالق کررہی تھیں۔ متعدد لوگوں کو پکڑا گیا مبینہ طور پر بھاری رقم کے بدلے گرفتار افراد کو چھوڑ دیا گیا۔ اسی شک کی بنیاد پر کوٹ ادو کے قصبہ شیخ عمر سے ایک محنت کش نوجوان کو رات کے پچھلے پھر اسکے گھر پر ریڈ کرکے گرفتار کیا گیا جو باربر کا کام کرتا تھا پولیس تھانے لے آئیجہاں اسکی موت واقع ہوگئی۔ لواحقین نے الزام لگایا موت پولیس تشدد سے ہوئی ہے۔لاش ٹی ایچ کیو ہسپتال لائی گئی۔ پوسٹمارٹم رپورٹ میں ڈاکٹر نے موت کی وجہہارٹ اٹیک قرار دے دی۔ سیاستدانوں اور پولیس نے فی الوقت معاملہ کو کنٹرول تو کرلیا ۔لاش لواحقین کو دے دی ۔انکوائریاں ہوئیں ماسوائے تفتیشی کے سب ا ہلکاروں کو بری کردیا گیا اور تفتیشی سعیدہ خالق کو ڈسمس فرام سروس کی سزا سنادی گئی۔ چھ ماہ گزرنے کے بعد اچانک پنجاب فرانزک کی رپورٹ نے کیس کا رخ تبدیل کردیا ۔پنجاب فرانزک ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ عمران مانی کی موت گلا دبانے سے واقع ہوئی ہے۔ کیس ایکبار پھر زندہ ہوگیا۔ ارشد صدیقی سابق صدر بار نے کیس کی فری پیروی شروع کردی ۔ گزشتہ روز مرحوم عمران مانی کی قبر کشائی کی درخواست دی گئی جس پر عدالت نے قبر کشائی کی اجازت دے دی۔ واضح رھے ایف آئی اے بھی اس کیس کی تحقیقات کررہی ہے۔







