بہاولپور (تحصیل رپورٹر) محکمہ جنگلات کے زیر انتظام لال سونہارا کے لاڈم سر ون بلاک نمبر 1 بیٹ نمبر ایک اور دو میں لگنے والی آگ نے وسیع پیمانے پر تباہی مچا دی۔ذرائع کے مطابق نامعلوم وجوہات کی بنا پر بھڑکنے والی آگ نے جنگلاتی درختوں، جھاڑیوں اور نئی پلاٹیشن کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جبکہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق 300 ایکڑ سے زائد رقبہ متاثر ہو چکا ہے۔دوسری جانب مقامی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ آگ کا پھیلاؤ مسلسل بڑھ رہا ہے اور متاثرہ رقبہ سینکڑوں ایکڑ تک جا پہنچا ہے۔ آگ سے سال 2021-22 کے دوران کی گئی قیمتی پلاٹیشن، @ متعدد بڑے درخت اور جنگلاتی وسائل بری طرح متاثر ہوئے ہیں جس کے باعث قومی خزانے کو کروڑوں روپے کے نقصان کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مقامی حلقوں کا کہنا ہے کہ آگ پر مکمل قابو پانے کے بجائے بعض ذمہ داران نقصان کی حقیقی صورتحال کم ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں محکمہ جنگلات والوں کے پاس ایسی کوئی چیز نہیں ہے جس سے یہ آگ بجھا سکے اور نہ ہی ان کے پاس کوئی ٹریکٹر یا کوئی اور مشینری ہے جو راستہ بنا کر اندر جنگل میں جا سکے باہر سڑکوں پر کھڑے ہوئے افسران و دیگر عملہ تماشہ دیکھنے میں مصروف ہے۔متعلقہ رینج افسر ممتاز سومرو کی جانب سے متاثرہ رقبہ محض 25 سے 30 ایکڑ ظاہر کرکے صورتحال کو معمول کے مطابق پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس بتائے جا رہے ہیں۔ تاحال محکمہ جنگلات کی جانب سے نقصان کی مکمل اور تفصیلی رپورٹ جاری نہیں کی گئی۔ ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ڈی ایف او سمیت بعض افسران جنگل کی اصل صورتحال سے متعلق اعلیٰ حکام کو مکمل طور پر آگاہ نہیں کر رہے۔دوسری جانب محکمہ جنگلات کے بعض اہلکاروں کی جانب سے آگ لگنے کی وجہ شارٹ سرکٹ بتائی جا رہی ہےتاہم مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ جس مقام سے آگ شروع ہونے کی اطلاعات ہیں وہاں بجلی کی لائن یا کوئی ایسا نظام موجود نہیں جس سے شارٹ سرکٹ کا امکان ہو۔آگ لگنے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے غیر جانبدارانہ تحقیقات ناگزیر ہیں۔ماہرین ماحولیات اور شہری حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، چیف کنزرویٹر فاریسٹ، کمشنر بہاولپور اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی فوری اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائیں۔ نقصان کا درست تخمینہ لگایا جائے ۔ذمہ دار عناصر کا تعین کیا جائے اور لال سونہارا جیسے اہم قومی جنگلاتی اثاثے کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔







