ایران پر ممکنہ حملہ مؤخر ہونے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی

امریکا کی جانب سے ایران پر مجوزہ فوجی کارروائی مؤخر کیے جانے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے، جس کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کے خدشات کم ہوئے اور مارکیٹ میں دباؤ میں نرمی آگئی۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ایران پر طے شدہ حملہ روکنے کے فیصلے کے بعد تیل کی قیمتیں مسلسل دوسرے روز بھی نیچے آتی رہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں ممکنہ جنگ کے خطرات کم ہونے سے عالمی توانائی منڈیاں نسبتاً مستحکم ہوئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کے فیوچر کی قیمت 1.21 ڈالر (1.3 فیصد) کمی کے بعد 89.17 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 1.23 ڈالر (1.4 فیصد) کمی کے ساتھ 86.48 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔
مزید بتایا گیا ہے کہ دونوں بڑے عالمی بینچ مارکس نے ہفتہ وار بنیادوں پر بھی خسارہ ظاہر کیا ہے، جس میں برینٹ میں مجموعی طور پر 4.2 فیصد اور ڈبلیو ٹی آئی میں 4.4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق سرمایہ کاروں کو خدشہ تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ فوجی تصادم سے آبنائے ہرمز متاثر ہو سکتی ہے، جس سے عالمی تیل کی سپلائی میں شدید رکاوٹ پیدا ہونے کا خطرہ تھا، تاہم حملہ مؤخر ہونے کے بعد مارکیٹ نے فوری طور پر مثبت ردعمل دیا۔
ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں ایران، امریکا اور خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال تیل کی قیمتوں کی سمت کا تعین کرے گی، جبکہ سرمایہ کار سفارتی پیش رفت اور ممکنہ مذاکرات پر بھی قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں