ملتان(نیوز رپورٹر)آج دنیا بھر میں چائلڈ لیبر کا عالمی دن منایا جا رہا ہےمگر جنوبی پنجاب سمیت ملک بھر کی سڑکوں، ورکشاپوں، ہوٹلوں، اینٹوں کے بھٹوں اور کھیتوں میں آج بھی لاکھوں بچے اپنے بچپن، تعلیم اور خوابوں سے محروم محنت مزدوری پر مجبور ہیں۔ بچوں کے حقوق کے تحفظ کے دعوے اور چائلڈ لیبر کے خاتمے کے قوانین کے باوجود یہ معصوم ہاتھ اب بھی قلم اور کتاب کے بجائے مزدوری کے اوزاراٹھانے پر مجبور ہیں۔شہر کی شاہراہوں پر جب گاڑیاں رکتی ہیں تو چند سیکنڈز میں دوڑتے ننھے بچے غبارے، پنسلیں، چابیوں کے رنگ، تسبیح، مسواکیں، ڈسٹر اور دیگر چھوٹی اشیاء فروخت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ (NCRC) اور اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کے مطابق ملک میں تقریباً 86 لاکھ بچے کسی نہ کسی شکل میں مزدوری کر رہے ہیں جبکہ یونیسیف کے مطابق 5 سے 16 سال عمر کے تقریباً 2 کروڑ 51 لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ پنجاب میں یہ تعداد تقریباً 97 لاکھ ہے۔ جنوبی پنجاب میں بھی صورتحال تشویشناک ہے جہاں لاکھوں بچے تعلیم اور بہتر مستقبل سے محروم ہو کر مختلف شعبوں میں مزدوری کر رہے ہیں۔ان بچوں میں سڑکوں پر سامان فروخت کرنے والے بچے، آٹو ورکشاپوں میں کام کرنے والے کمسن مزدور، ہوٹلوں میں برتن دھونے والے لڑکے، اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے بچے اور کھیتوں میں مشقت کرنے والے معصوم شامل ہیں۔ملتان، بہاولپور، رحیم یار خان، مظفرگڑھ، ڈیرہ غازی خان، راجن پور اور لیہ سمیت جنوبی پنجاب کے کئی اضلاع میں غربت، بے روزگاری، مہنگائی، کم تعلیمی سہولیات اور آبادی میں اضافے نے چائلڈ لیبر کے مسئلے کو مزید گمبھیر بنا دیا ہے۔ متعدد علاقوں میں بچے صبح سویرے مزدوری شروع کرتے ہیں اور رات گئے تک کام کرتے رہتے ہیں جبکہ ان کی اجرت اتنی کم ہوتی ہے کہ وہ دو وقت کی مناسب خوراک تک حاصل نہیں کر پاتے۔شدید گرمی، بھوک اور پانی کی کمی کے باعث کئی بچے دوران کام بے ہوش ہو جاتے ہیں۔ بعض کو دن بھر کی محنت کے عوض چند سو روپے ملتے ہیں جبکہ فروخت نہ ہونے والی اشیاء یا کام میں معمولی غلطی پر ڈانٹ ڈپٹ اور جسمانی تشدد کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ بھٹوں اور زرعی کھیتوں میں سخت جسمانی محنت ان کی جسمانی و ذہنی نشوونما کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔(UNDP) اور (NCRC)کی رپورٹس کے مطابق چائلڈ لیبر کے خاتمے میں کمزور نگرانی، ناکافی لیبر انسپیکشن، غربت اور مؤثر حکومتی اقدامات کا فقدان بڑی رکاوٹیں ہیں۔افسوسناک پہلو یہ ہے کہ محکمہ لیبر، چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو، سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کی ذمہ داری بچوں کو مزدوری سے بچانا اور انہیں تعلیم
و تحفظ فراہم کرنا ہےلیکن زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں۔ سڑکوں، بازاروں، ورکشاپوں اور بھٹوں پر کام کرتے ہزاروں بچے اس بات کا ثبوت ہیں کہ قوانین موجود ہونے کے باوجود ان پر مؤثر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت، متعلقہ محکمے، سماجی تنظیمیں، تاجر برادری اور معاشرہ مل کر ان معصوم ہاتھوں میں مزدوری کے اوزاروں کے بجائے کتاب اور قلم تھمائیں۔







