ملتان (سٹاف رپورٹر) بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کی مبینہ دھجیاں بکھیر دی گئیں۔ عارضی رجسٹرار محمد اعجاز کی جانب سے معلومات مانگنے والے شہری کو معلومات فراہم کرنے کے بجائے قانونی دھمکیوں، عدالتی حوالوں اور بھاری جرمانوں کے خوف سے دبانے کی کوشش کیے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ دستاویز کے مطابق شہری محمد اسلم نے دو یونیورسٹی افسران کی تعیناتیوں کے خلاف دائر کردہ نمائندگی اور متعلقہ دستاویزات کی مصدقہ نقول پنجاب ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 اور آئین پاکستان کے آرٹیکل 19-A کے تحت طلب کی تھیں، تاہم یونیورسٹی انتظامیہ نے معلومات فراہم کرنے کے بجائے ایسا جواب جاری کیا جسے قانونی ماہرین اور شہری حلقے’’دھمکی آمیز، خوفزدہ کرنے والا اور معلومات تک رسائی کے بنیادی آئینی حق کی نفی‘‘قرار دے رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق درخواست گزار نے کسی بھی یونیورسٹی افسر کی ذاتی زندگی، نجی معاملات یا خاندانی معلومات طلب نہیں کی تھیں بلکہ سرکاری عہدوں پر تقرریوں، نمائندگیوں اور ان سے متعلقہ سرکاری دستاویزات کی نقول مانگی گئی تھیں جو بظاہر عوامی مفاد اور شفافیت کے دائرہ کار میں آتی ہیں۔ تاہم یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ جواب میں نہ صرف معلومات دینے سے انکار کیا گیا بلکہ سپریم کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ کے فیصلوں کے حوالے دے کر درخواست گزار کو بالواسطہ یہ پیغام دیا گیا کہ اگر اس نے مزید معلومات لینے یا قانونی چارہ جوئی کی کوشش کی تو اسے بھی’’بدنیتی‘‘،’’فضول مقدمہ بازی‘‘ اور بھاری جرمانوں جیسے نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ قانونی حلقوں کے مطابق کسی عام شہری کو معلومات فراہم کرنے کے بجائے دس لاکھ روپے جرمانے والے عدالتی فیصلے کا حوالہ دینا بذاتِ خود ایک ایسا حربہ محسوس ہوتا ہے جس کا مقصد دیگر شہریوں کو بھی خوفزدہ کرنا ہے تاکہ آئندہ کوئی شخص یونیورسٹی سے سرکاری ریکارڈ یا تقرریوں سے متعلق معلومات مانگنے کی جرات نہ کرے۔ ناقدین کے مطابق اگر ہر عوامی ادارہ اسی انداز میں آرٹیکل 19-A کی تشریح شروع کر دے تو پھر شفافیت، احتساب اور عوامی نگرانی کا پورا نظام ہی بے معنی ہو کر رہ جائے گا۔ ذرائع کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ نے اپنے جواب میں’’پرائیویسی‘‘ کا سہارا لیتے ہوئے معلومات دینے سے انکار کیا حالانکہ وی
سی ڈاکٹر زبیر غوری نے بھی یونیورسٹی میں تمام عملے کو شفافیت برقرار رکھنے کے حوالے سے سخت احکامات جاری کر رکھے ہیں مگر عملہ روائتی ہتھکنڈوں کا استعمال کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق سرکاری عہدوں پر تعینات افسران کی تقرریوں، نمائندگیوں اور دفتری کارروائیوں سے متعلق معلومات کو مکمل نجی یا ذاتی نوعیت کا قرار دینا خود ایک متنازع قانونی مؤقف ہے۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر سرکاری ادارے تقرریوں اور انتظامی فیصلوں کو بھی پرائیویسی کی آڑ میں چھپانا شروع کر دیں تو پھر کرپشن، اقربا پروری اور غیر شفاف بھرتیوں کے خلاف کوئی بھی شہری مؤثر سوال نہیں اٹھا سکے گا۔ تعلیمی و قانونی حلقوں میں اس معاملے پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے اور سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آخر ایک سرکاری یونیورسٹی کو عوامی معلومات فراہم کرنے میں ایسی کون سی رکاوٹ پیش آ رہی ہے کہ درخواست گزار کو معلومات دینے کے بجائے عدالتی حوالوں اور مالی جرمانوں کے خوف سے دبانے کی کوشش کی گئی۔ مبصرین کے مطابق اس طرزِ عمل سے یہ تاثر مزید مضبوط ہو رہا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ شفافیت کے بجائے خوف اور دباؤ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ متنازع جواب بہا الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے لیگل سیکشن کی جانب سے جاری کیا گیا جس پر ڈپٹی رجسٹرار (لیگل) محی الدین کے دستخط موجود ہیں۔ حیران کن طور پر یونیورسٹی کے اندرونی حلقوں میں یہ سوال بھی شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ جس افسر کے پاس باقاعدہ لا کی ڈگری ہی موجود نہیں وہ ایک بڑے سرکاری ادارے کے لیگل سیکشن میں کس قانونی بنیاد پر اہم ترین قانونی معاملات اور شہریوں کے آئینی حقوق سے متعلق فیصلے کر رہا ہے۔







