ملتان ( خصوصی رپورٹر) محکمہ خوراک ملتان ڈویژ ن کے افسران مبینہ طور پر نجی کمپنیوں سے ساز باز ہوکر فلور ملز مالکان کی بینک قرضوں کے ذریعے خریدی گئی گندم زبردستی اٹھانے کے درپے، فلور ملز مالکان نے اینٹی کرپشن سے رجوع کرلیا۔ تفصیل کے مطابق ملتان ڈویژن کے فلور ملز مالکان نے ڈی جی اینٹی کرپشن لاہور کو اپنے دستخطوں سے بھجوائی گئی درخواست میں ڈائریکٹر جنرل فوڈ پنجاب، ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ ملتان ڈویژن اور ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولرز ملتان، خانیوال اور لودھراں مبینہ طور پر کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال اور زبردستی رشوت وصولی کے سنگین الزامات عائد کئے ہیں ۔ فلور ملز مالکان کی جانب سے دائر درخواست میں ڈی جی فوڈ پنجاب، ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ ملتان اور ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولرز کے خلاف تعزیراتِ پاکستان اور اینٹی کرپشن قوانین کے تحت فوری مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔فلور ملز مالکان کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت نے رواں سال خود گندم خریدنے کے بجائے 12 نجی کمپنیوں کو خریداری کی اجازت دی اور کم از کم امدادی قیمت 3500 روپے فی من مقرر کی تھی چونکہ حکومت نے کوئی کوٹہ نہیں دیا، اس لیے فلور ملز نے بینکوں سے قرضے لے کر اوپن مارکیٹ سے تقریباً 4000 روپے فی من کے حساب سے گندم خریدی اور اسے قانونی طور پر پورٹل پر بھی درج کیا۔درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ محکمہ خوراک کے متعلقہ افسران نے مبینہ طور پر پرائیویٹ کمپنیوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کر رکھا ہے۔ وہ فلور ملز مالکان کو مجبور کر رہے ہیں کہ وہ بینک قرضوں سے خریدی گئی گندم کا 7 فیصد حصہ زبردستی ان کمپنیوں کے حوالے کریں۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں ملز مالکان سے مبینہ طور پر بھاری رشوت طلب کی جا رہی ہے جبکہ حکومتِ پنجاب کا ایسا کوئی تحریری حکم نامہ موجود نہیں ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ فوڈ افسران کی ایما پر پیرا فورس کے ذریعے فلور ملز پر غیر قانونی چھاپے مارے جا رہے ہیں اور 3500 روپے فی من کے حساب سے ان کی گندم زبردستی قبضے میں لی جا رہی ہےجو کہ صریحاً غیر قانونی ہے۔درخواست گزاروں نے واضح کیا کہ چند روز قبل ہی لاہور ہائیکورٹ بہاولپور بینچ نے اپنے ایک فیصلے میں واضح حکم دیا ہے کہ جن فلور ملز کے پاس فوڈ گرین لائسنس موجود ہیں، ان سے کسی بھی طور پر گندم وصول نہ کی جائے۔ فوڈ افسران کے یہ اقدامات عدالت عالیہ کے احکامات کی بھی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ملتان ڈویژن کے فلور مالکان نے درخواست میں استدعا کی ہے کہ مذکورہ افسران کے اس غیر قانونی فعل کو روکا جائے اور ان کے خلاف دفعہ 409 اور 47(2)5 PCA کے تحت مقدمہ درج کر کے فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔







