ملتان ( سپیشل رپورٹر ،نمائندہ خصوصی) سانحہ مری میں جاں بحق ملتان کےرہائشی 10 خواتین و بچوں کی نماز جنازہ علمدار چوک پر ادا کردی گئی۔ نماز جنازہ مولانا تقی نقوی نے پڑھائی، سیاسی شخصیات و سماجی شخصیات سمیت سینکڑوں افراد کی شرکت کی، سابق رکن قومی اسمبلی ملک احمد حسین ڈیہڑ ، جاوید انصاری اور ندیم قریشی کی بھی شرکت ، دس جنازے اٹھنے پر لواحقین غم سے نڈھال تھے، علاقہ کی فضا سوگوار تھی۔ میتوں کی تدفین آبائی قبرستان حسن پروانہ روڈ پر کی گئی۔مسلم لیگ ن کے رہنما و ایم پی اے سلمان نعیم بھی محلہ سوتری وٹ پہنچے۔سلمان نعیم کا سانحہ مری میں جاں بحق افراد کے لواحقین سے ملاقات کی، رکن صوبائی اسمبلی نے لواحقین کیساتھ افسوسناک واقعہ پر اظہار تعزیت کیا، سلمان نعیم نے متوفی خواتین و بچوں کے سربراہ کاشف رضا کو دلاسہ دیا،ایم پی اے سلمان نعیم نے کہا کہ کاشف رضا کی اہلیہ، والدہ اور پانچ بچے جان کی بازی ہار گئے، ڈرائیور کی غفلت ہے جو گاڑی لاک کرکے بھاگ گیا،ٹرانسپورٹ کے نظام میں بہتری کی ضرورت ہے، ٹرانسپورٹ کے معاملے میں بہتری لانے کا معاملہ اسمبلی میں لیکر جاؤں گا، سلمان نعیم نے کہا کہ گاڑی میں آگ بجھانے کا کوئی انتظام ہی نہیں تھا، لواحقین کیساتھ ہم کھڑے ہیں،ڈرائیور کی غفلت کو قانون کے سامنے لانا چاہیے،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے واقعہ کا نوٹس لے لیا ہے،10 افراد کی حالت خطرے سے باہر ہے، 3 افراد کی حالت تشویشناک ہے، پنجاب حکومت مکمل طور پر لواحقین کیساتھ کھڑی ہے۔دوسری جانب مری ایکسپریس ہائی وے پر پیش آنے والے ہولناک ٹریفک حادثے نے ملتان سمیت پورے جنوبی پنجاب کو غم کی کیفیت میں مبتلا کر دیا۔ ملتان کے علاقے پل سوتری وٹ سے تعلق رکھنے والی ایک ہی خاندان کی متعدد جانیں اس افسوسناک سانحے میں ضائع ہوگئیں، جبکہ حادثے کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد شہریوں میں شدید رنج و غم اور تشویش پائی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق ملتان سے مری سیر و تفریح کے لیے جانے والی فیملی ایک ہائی روف ویگن میں سفر کر رہی تھی کہ مری ایکسپریس ہائی وے پر مبینہ طور پر ڈرائیور کی غفلت کے باعث گاڑی بے قابو ہو کر حفاظتی دیوار سے ٹکرا گئی۔ تصادم اتنا شدید تھا کہ حادثے کے فوراً بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اوردیکھتے ہی دیکھتے شعلوں نے پوری ویگن کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔عینی شاہدین کے مطابق متاثرہ خاندان کے بعض افراد ایک دوسری کار میں بھی سفر کر رہے تھے جو حادثے کے وقت تقریباً 20 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ حادثے کے فوراً بعد ویگن کے ڈرائیور نے فرنٹ سیٹ پر بیٹھے دو کمسن بچوں کو باہر نکالا اور بعد ازاں موقع سے فرار ہوگیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق تصادم کے بعد گاڑی کے دروازے آٹو لاک ہوگئے جس کے باعث اندر موجود افراد باہر نہ نکل سکے۔فیملی کے افراد کی چیخ و پکار سن کر قریبی لوگوں نے امدادی کارروائی کی کوشش کی اور اینٹوں اور پتھروں کی مدد سے ویگن کے پچھلے شیشے توڑ دیے۔ اس دوران 4 سے 5 بچوں اور چند خواتین کو گاڑی سے باہر نکال لیا گیا تاہم آگ کی شدت میں مسلسل اضافے کے باعث مزید امدادی کارروائی ممکن نہ رہی اور موجود افراد کو پیچھے ہٹنا پڑا۔علاقے کے لوگوں کے مطابق گاڑی میں پھنسے افراد مدد کے لیے پکارتے رہے لیکن آگ کے تیزی سے پھیلنے کی وجہ سے انہیں بچایا نہ جا سکا۔ چند ہی لمحوں میں گاڑی مکمل طور پر جل گئی اور اس میں موجود افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔ یہ منظر وہاں موجود ہر شخص کے لیے انتہائی دل دہلا دینے والا تھا۔حادثے کے بعد متعلقہ حکومتی اداروں کی جانب سے جاں بحق افراد کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کی تجویز دی گئی تاہم ورثاء نے مبینہ طور پر اس سے انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ جاں بحق ہونے والے تمام افراد ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ مزید تکلیف دہ مراحل سے گزرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ذرائع کے مطابق متاثرہ خاندان کے سربراہ ملک زبیر جو محکمہ انہار میں بطور ایس ڈی او خدمات انجام دے رہے ہیں، بعض مصروفیات کے باعث اس سفر میں اہل خانہ کے ہمراہ نہیں جا سکے تھے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی ان کے گھر اور پورے علاقے میں کہرام مچ گیا۔ملتان کے علاقے پل سوتری وٹ میں جیسے ہی سانحے کی خبر پہنچی تو فضا سوگ میں ڈوب گئی۔ اہل علاقہ کے مطابق ہر طرف آہ و بکا، رقت آمیز مناظر اور غم کی کیفیت طاری تھی۔ شہری بڑی تعداد میں متاثرہ خاندان کے گھر پہنچتے رہے اور تعزیت کا سلسلہ جاری رہا۔اہل محلہ کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندان نے تقریباً چھ سال قبل اپنے آبائی قبرستان حسن پروانہ میں دس قبروں کے لیے جگہ خرید کر وہاں چاردیواری بھی تعمیر کر رکھی تھی۔ قسمت کی ستم ظریفی دیکھیے کہ وہی جگہ گزشتہ روز اس خاندان کے جاں بحق افراد کی آخری آرام گاہ بن گئی، جہاں آبدیدہ آنکھوں کے ساتھ ان کی تدفین عمل میں لائی گئی۔اس افسوسناک سانحے نے ایک بار پھر مسافر گاڑیوں میں حفاظتی انتظامات، ایمرجنسی اخراج کے نظام، آٹو لاک دروازوں کی فعالیت اور ڈرائیوروں کی ذمہ داریوں سے متعلق سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حادثے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ آئندہ ایسے المناک واقعات سے بچا جا سکے۔







