اسلام آباد(بیورورپورٹ،نیوزایجنسیاں)قومی اقتصادی کونسل (این ای سی)مالی سال 2026-27 کے لیے 3.66 کھرب روپے کے قومی ترقیاتی بجٹ اور 4 فیصد مجموعی قومی شرح نمو (جی ڈی پی گروتھ)کے ہدف کی منظوری دے دی۔اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے معاشی استحکام کے حصول میں صوبائی حکومتوں کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ وفاق اور صوبوں کے مشترکہ تعاون سے پاکستان کو درپیش بڑے معاشی چیلنجز کا مقابلہ کیا گیا اور میکرو اکنامک استحکام حاصل کرنے میں کامیابی ملی۔اجلاس میں ملکی معیشت، ترقیاتی منصوبوں اور آئندہ مالی سال کے اقتصادی اہداف کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے زور دیا کہ قومی وسائل کے مؤثر استعمال، ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور معاشی ترقی کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان قریبی تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مشکل معاشی حالات میں بھی قومی مفاد کو ترجیح دی اور تمام فیصلے ٹیم ورک کے ذریعے کیے گئے۔شہباز شریف نے کہا کہ حکومت نے ایک ٹیم کے طور پر پاکستان کے بہترین مفاد میں فیصلے کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ معیشت کو سنگین چیلنجز کا سامنا رہا تاہم اجتماعی حکمت عملی اور مربوط اقدامات کے ذریعے میکرو اکنامک استحکام حاصل کیا گیا۔وزیراعظم نے کہا کہ خطے کی موجودہ صورتحال کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا تاہم حکومت نے عوام کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریلیف دینے کے لیے 128 ارب روپے کا پیکیج فراہم کیا۔شہباز شریف نے واضح کیا کہ آئندہ بجٹ میں قومی دفاع کے لیے ضروری وسائل کی فراہمی حکومت کی اہم ترجیح ہے جبکہ دہشت گردی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے بھی اضافی مالی وسائل درکار ہوں گے۔اس موقعے پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے بجٹ تجاویز اور معاشی اشاریوں پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ این ای سی نے آئندہ مالی سال کے لیے 3 اعشاریہ66 کھرب روپے کے قومی ترقیاتی بجٹ اور 4 فیصد مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو کے ہدف کی منظوری دے دی ہے۔انہوں نے بتایا کہ وفاقی ترقیاتی پروگرام کے لیے ایک کھرب روپے، صوبائی ترقیاتی اخراجات کے لیے 2اعشاریہ21 کھرب روپے جبکہ وفاقی اداروں کے لیے 451 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔احسن اقبال کے مطابق این ای سی نے منصوبہ بندی ڈویژن کی یہ تجویز بھی منظور کر لی ہے کہ قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس سال میں ایک مرتبہ کے بجائے ہر سہ ماہی منعقد کیے جائیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کا حجم 2018 میں جی ڈی پی کے 2اعشاریہ6 فیصد سے کم ہو کر 0اعشاریہ6 فیصد رہ گیا ہے جبکہ پاکستان کو معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے کے لیے ترقیاتی ایمرجنسی کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومتی آمدن کا 74 فیصد حصہ قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہو رہا ہے جبکہ پاکستان کو سب سے بڑا معاشی چیلنج بیرونی شعبے میں درپیش ہے۔ ان کے مطابق ملک کو غیر ملکی سرمایہ کاری اور برآمدات میں اضافہ کرنا ہوگا تاکہ پائیدار معاشی ترقی حاصل کی جا سکے۔احسن اقبال نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کے لیے زرعی شعبے کی شرح نمو کا ہدف 3.6 فیصد، صنعتی شعبے کا 4.5 فیصد اور خدمات کے شعبے کا 4.2 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ مہنگائی کا ہدف 8.2 فیصد رکھا گیا ہے جبکہ آبی تحفظ (واٹر سیکیورٹی)کو پاکستان کی اولین قومی ترجیح قرار دیا گیا ہے۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے واضح کیا کہ ایک کھرب روپے کے وفاقی پی ایس ڈی پی کے تحت تعلیم اور دفاع سے متعلق منصوبوں کے علاوہ کسی نئے ترقیاتی منصوبے کا آغاز نہیں کیا جائے گا۔قبل ازیںقومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کے اجلاس میں مالی سال 27-2026 کے قومی ترقیاتی بجٹ سمیت وفاقی اور صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگراموں کی منظوری دے دی گئی۔اجلاس میں ملکی معیشت، جاری اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں، دفاعی تقاضوں اور عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں وفاقی وزرا، تین صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور دیگر سینئر حکام شریک ہوئے جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں مالی سال 26-2025 کے ترقیاتی بجٹ پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، اس کے علاوہ صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگراموں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگز اور پریزنٹیشنز بھی پیش کی گئیں۔اجلاس کے شرکاء کو یکم اپریل 2025 سے 31 مارچ 2026 تک سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) کی کارکردگی رپورٹ سے آگاہ کیا گیا جبکہ اسی مدت کے دوران مختلف ترقیاتی منصوبوں کی ای سی این ای سی (ایکنک) سے حاصل ہونے والی منظوریوں کی تفصیلات بھی فراہم کی گئیں۔این ای سی نے صوبوں کے ترقیاتی بجٹ میں 920 ارب روپے کی کمی پر اتفاق کرلیا، قومی اقتصادی کونسل نے فیصلہ کیا کہ آئندہ بلوچستان کے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی نہیں ہو گی، پلاننگ کمیشن دستاویز کے مطابق بلوچستان کا ترقیاتی بجٹ 308 ارب روپے پر برقرار رہے گا، پنجاب کا ترقیاتی بجٹ 1450 ارب روپے سے کم کر کے 749 ارب کر دیا گیا۔سندھ کا ترقیاتی بجٹ 816 سے کم کر کے 706 ارب روپے کر دیا گیا، کے پی کا ترقیاتی بجٹ 564 ارب روپے سے کم کر کے 455 ارب روپے کر دیا گیا، قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں صوبوں کا مجموعی ترقیاتی بجٹ 3138 سے کم کر کے 2218 ارب روپے کر دیا گیا۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز صحت کے باعث نیشنل اکنامک کونسل (NEC) اجلاس میں شرکت نہ کر سکیں، سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے نیشنل اکنامک کونسل کے اجلاس میں پنجاب کی نمائندگی کی۔مریم اورنگزیب نے اجلاس میں پنجاب کے سالانہ ترقیاتی پروگرام پر تفصیلی بریفنگ دی، پنجاب کے ترقیاتی منصوبوں، ترجیحات اور آئندہ مالی سال کے اہداف پر بریفنگ پیش کی گئی۔







