چولستان میں پانی قلت، ایک اورپیاسا چل بسا، لاکھوں جانیں خطرے میں

یزمان( نمائندہ خصوصی)چولستان کے صحرائی علاقے میں پانی کی شدید قلت نے انسانی زندگیوں اور لاکھوں مویشیوں کو سنگین خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ ٹوبہ کوپری کے مقام پر پانی کی عدم دستیابی اور شدید پیاس کے باعث ایک چولستانی شخص پیاسادم توڑگیا۔ المناک واقعہ نے مقامی آبادی کو شدید اضطراب اور غم میں مبتلا کر دیا ہے۔عینی شاہدین اور مقامی افراد کے مطابق متاثرہ شخص کئی روز سے پانی کی تلاش میں دربدر تھا۔ علاقے میں پینے کے صاف پانی کی عدم فراہمی اور طویل فاصلے طے کرنے کی مجبوری نے صورتحال کو انتہائی خطرناک بنا دیا ہے۔ اس واقعے کے بعد ایک بار پھر چولستان کے باسیوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ ایک تسلسل ہے جس میں ہر سال کئی قیمتی جانیں پانی کی قلت کے باعث ضائع ہو جاتی ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ صحرائی علاقوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے دعوے تو کیے جاتے ہیں مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔چولستانی شہریوں نے حکومتِ وقت سے سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ آخر کب تک وہ پیاس کی اذیت سہتے رہیں گے۔ کب تک بزرگ، نوجوان اور بچے پانی کی بوند بوند کو ترستے رہیں گے اور کب تک ان کی زندگیوں کو نظر انداز کیا جاتا رہے گا؟ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ چولستان کے لوگوں کا مسئلہ صرف موسمی یا وقتی نہیں بلکہ ایک مستقل انسانی بحران بن چکا ہے۔علاقے میں نہ صرف انسانی آبادی بلکہ لاکھوں مویشی بھی پانی کی کمی کے باعث شدید خطرے میں ہیں، جس سے مقامی معیشت اور روزگار بھی متاثر ہو رہا ہے۔ مال مویشیوں کی اموات کے خدشات بڑھ رہے ہیں، جو پہلے ہی غربت اور مشکلات کا شکار آبادی کے لیے مزید تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق چولستان جیسے صحرائی علاقوں میں پانی کی منظم فراہمی، چھوٹے ڈیمز، واٹر ٹینکرز اور جدید ہارویسٹنگ سسٹم کی فوری ضرورت ہے، بصورت دیگر انسانی المیوں میں اضافہ ہوتا رہے گا۔یہ واقعہ ایک بار پھر اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ کیا چولستان کے لوگ واقعی بنیادی انسانی حق—یعنی صاف پانی سے ہمیشہ محروم رہیں گے، یا پھر کبھی ان کی مشکلات کا عملی حل بھی سامنے آئے گا؟

شیئر کریں

:مزید خبریں