ٹرائبل ایریا میں بلوچستان سے دہشتگرد حملے جاری، 7 افراد یرغمال، ادارے، جرگہ ناکام

ملتان (سٹاف رپورٹر) سات روز گزرنے کے باوجود پنجاب کے ٹرائبل ایریا تمن قیصرانی کے بلوچستان اور کے پی کے تین صوبوں کے بارڈر پر واقع علاقے چتر وٹہ سے اسلحہ کے زور پر اغوا کیے جانے والے ایک ہی خاندان کے سات افراد کو بازیاب کروانے میں بارڈر ملٹری پولیس اور ڈیرہ غازی خان کی انتظامیہ مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ تمن قیصرانی کا یہ علاقہ چتر وٹہ بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل اور کے پی کے کے علاقہ کوہی کے سنگم پر واقع ہے اور یہاں سے گزشتہ ماہ بلوچستان سے داخل ہونے والے دہشت گرد دو افراد کو اغوا کرکے لے گئے تھے جسے بعد میں وہوا کے ایک بااثر شخص نے اپنی کوششوں سے رہائی دلوائی جبکہ انتظامیہ ان کو رہا کروانے میں کامیاب نہ ہو سکی تھی۔ ان کی رہائی کے چند روز بعد مسلح دہشت گردوں نے دوبارہ حملہ کیا اور جند وڈا قیصرانی قبیلے کے سات افراد کو اغوا کرکے پنجاب کے قبائلی علاقے سے باہر لے گئے۔ اس واقعے کے بعد کمانڈنٹ تمن قیصرانی امیر تیمور کے ہمراہ آر پی او ڈیرہ غازی خان اور کمشنر ڈیرہ غازی خان بلٹ پروف گاڑیوں میں علاقے مذکورہ میں گئے مگر ناکام لوٹے۔ اس صورتحال کے حوالے سے وہوا میں ایک جرگہ بھی ہوا تھا جس میں کمشنر ڈیرہ غازی خان ڈویژن آر پی او ڈیرہ غازی خان ڈویژن سمیت اہم افسران نے شرکت کی ۔اس موقع پر تمن قیصرانی کے سردار میر بادشاہ خان قیصرانی نے موقف اختیار کیا تھا کہ حکومت زمینی حقائق کو مد نظر رکھ کر فیصلے نہیں کرتی اور حکومت کو احکامات جاری کرتے وقت مقامی لوگوں سے پوچھنے کی زحمت ہی گوارا کرنا نہیں ہوتی۔ اس خطے کے بلوچوں کے پاس انگریز دور سے اسلحہ موجود تھا اور وہ اسلحہ ان کی حفاظت کے لیے تھا جو کبھی بھی بد امنی کے لیے استعمال نہیں ہوتا تھا اور طاقت کا توازن برقرار رہتا تھا۔ اب حکومت کے فیصلے کے تحت بلوچ قبائلیوں پر تو اسلحے کے استعمال اور اٹھانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور ان کے خلاف اسلحہ رکھنے کے الزام میں مقدمات درج ہوتے ہیں اور بارڈر ملٹری پولیس سخت کارروائیاں کرتی ہے جس سے بلوچ قبائل تو نہتے کر دیئے گئے ہیں اور اس کا فائدہ دہشت گرد اٹھا رہے ہیں۔ بلوچ قبائل کے پاس اپنی حفاظت کے لیے اسلحہ موجود تھا تو یہاں کسی کی جرات نہیں تھی کہ وہ داخل ہو سکتا مگر حکومت پنجاب کے اس فیصلے نے پنجاب کے قبائلی علاقوں کے بارڈر کو مکمل طور پر غیر محفوظ کر دیا ہے جو کسی بھی طور پر دانشمندانہ فیصلہ نہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ راجن پور اور ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقوں کا یہ بارڈر غیر محفوظ ہوا ہے ورنہ وہاں آباد بلوچ قبائل اور ٹرائبل ایریا کے لوگ کسی کو داخل نہیں ہونے دیتے تھے۔ یہاں یہ امر بھی انتہائی توجہ کا حامل ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے کے پی کے کے قبائلی علاقوں کی طرز پر پنجاب کے ان قبائلی علاقوں کے خاتمے کا اعلان کر دیا تھا اور ان کا کنٹرول حکومت پنجاب کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا تھا مگر اس فیصلے کے راستے کی رکاوٹ سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار بن گئے اور انہوں نے کئی ہفتے گزر جانے کے باوجود یہ احکامات ہی جاری نہ ہونے دیئے حتی کہ حکومت ختم ہو گئی کیونکہ اس فیصلے سے ان کی اپنی سرداری کا بھی خاتمہ ہوتا تھا اور بلوچ قبائل کے تمام تمن میں پنجاب حکومت کی عملداری ہونے کی وجہ سے ترقی کا عمل جہاں تیز ہونا تھا وہیں پر انتظامیہ اور پنجاب پولیس کی گرفت بھی بہت مضبوط ہو جانی تھی کیونکہ بارڈر ملٹری پولیس کا نیٹ ورک انتہائی کمزور اور ان کے پاس جدید اسلحے کی بہت کمی ہے جبکہ ان کے پاس نفری بھی بہت کم ہے۔ پنجاب کے ڈیرہ غازی خان اور راجن پور سے ملحقہ قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والے اہم افراد نے روزنامہ قوم کو بتایا کہ حکومت پنجاب کی طرف سے مختلف تمن سے تعلق رکھنے والے قبائلیوں کے لیے اسلحہ رکھنے کی پابندی کے حکومتی فیصلے کے بعد دشوار گزار راستوں پر مشتمل یہ علاقے غیر محفوظ ہو چکے ہیں یہ بارڈر ملٹری پولیس کے پاس نفری اور جدید اسلحے کی بھی شدید کمی ہے جس کی وجہ سے ان کے لیے اس بارڈر کا کنٹرول کرنا اور منظم نگرانی کا عمل جاری رکھنا ناممکن ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں