خانیوال میں ڈیڑھ لاکھ ایکڑ سرکاری زمین، صرف 32 کروڑ آمدن، نیلامی سے 300 ارب ممکن

ملتان( سٹاف رپورٹر )پنجاب اسمبلی میں جہانیاں سے رکن صوبائی اسمبلی چوہدری خالد جاوید ارائیں کے محکمہ ریونیو سے متعلق ایک سوال اور وزیر مال کے جواب نے کئی سوالات پیدا کر دیئے ہیں۔ چوہدری خالد جاوید ارائیں نے صوبائی اسمبلی میں سوال کیا کہ ضلع خانیوال میں کہاں کہاں سرکاری رقبہ موجود ہے۔ کتنا رقبہ غیر آباد، کتنا ٹھیکے پر اور کتنا پٹے یا لیز پر دیا گیا ہے اور کتنی رقم حکومت پنجاب کو سالانہ ٹھیکے کے عوض وصول ہوتی ہے۔ اس سوال کے جواب سے معلوم ہوا کہ ضلع خانیوال میں ایک لاکھ 52 ہزار 499 ایکڑ سرکاری اراضی موجود ہے جس میں سے 67 سو ایکڑ زمین ٹھیکے یا پٹے پر دی گئی ہے ایک ہزار چار ایکڑ بنجر ہے۔ 87 ایکڑ رقبے پر ٹیلے اور ٹبے ہیں۔ ضلع خانیوال کے محکمہ مال کو 67 سو ایکڑ زمین کی لیز اور پٹے کے عوض 35 کروڑ 10 ہزار روپیہ سالانہ میں سے 32 کروڑ وصول ہوتا ہے اور یہ ٹھیکہ تقریباً 52 ہزار روپے فی ایکڑ بنتا ہے جبکہ ضلع خانیوال کی زمین اتنی زرخیز ہے کہ وہاں کم سے کم ٹھیکہ 90 ہزار روپے فی ایکڑ ہے اور زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ لاکھ روپے فی ایکڑ ہے جبکہ حکومت کو اس کا نصف بھی وصول نہیں ہوتا۔ صوبائی اسمبلی میں پیش کیے جانے والے اس سوال پر روزنامہ قوم نے جو کم سے کم اوسط کے حساب سے حکومت پنجاب کی مالیتی اراضی کا تخمینہ لگایا ہے اس کے مطابق اگر حکومت پنجاب یہ زمین انتہائی ایمانداری اور میرٹ پر نیلام کرے تو حکومت کو کم سے کم 250 سے 300 ارب روپے کی آمدن ہوگی جس سے ضلع خانیوال کو ہر طرح کی طبی تعلیمی اور بنیادی سہولتیں میسر کی جا سکتی ہیں مگر سرکاری سطح کے سرخ فیتے نے ہر قسم کی ترقی کے سامنے بند باندھ رکھے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ضلع خانیوال میں سینکڑوں ایکڑ سرکاری اراضی ایسی بھی ہے جس پر پرائیویٹ لوگ سالہا سال سے قابض ہیں اور گورنمنٹ کو ایک روپیہ بھی ادا نہیں کر رہے جبکہ ان ناجائز قابضین کو مختلف طاقتور اور بااثر گھرانوں کی مکمل طور پر پشت پناہی اور سرپرستی حاصل ہے۔ وزیر مال نے صوبائی اسمبلی میں بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے فیصلہ کیا ہے کہ اس سرکاری اراضی کو جو غیر آباد اور بنجر ہے اور جہاں کاشتکاری نہیں ہو سکتی انہیں فش فارمنگ یا جھینگا فارمنگ کے لیے لیز کیا جائے مگر صوبائی وزیر مال نے اس حوالے سے وقت کا کوئی تعین نہیں کیا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں