ملتان ( خصوصی رپورٹر،سپیشل رپورٹر) مری ایکسپریس وے پر کھجٹ کے قریب ملتان کے علاقے پل شوالہ محلہ سوتری وٹ سے سیر کے لئے مری جانے والے ایک ہی خاندان کے 23 افراد حادثہ کا شکار ہوگئے، وین کو آگ لگ جانے کے باعث 4 بچوں سمیت 10 افراد جاں بحق جبکہ 13 زخمی ہوگئے ،موٹر وے پولیس کے حکام کے مطابق ملتان سے تعلق رکھنے والی فیملی مختلف گاڑیوں میں مری جارہی تھی کہ متاثرہ ہائی ایس وین میں 13 مرد و خواتین کے ساتھ 10 بچے بھی سوار تھے۔ہائی ایس وین مری ایکسپریس وے پر کجھوٹ کے مقام پر پہنچی تو اچانک گاڑی میں خرابی پیدا ہوئی اور گاڑی ڈرائیور سے بے قابو ہوکر سڑک کنارے برساتی نالے میں دیوار کے ساتھ جالگی جس سے گاڑی کے مسافر پھنس کر رہ گئے اور اچانک گاڑی میں آگ بھی بھڑک اٹھی۔موٹر وے پولیس کے مطابق آتشزدگی اور زخمی ہونے کے نتیجے میں مجموعی طور پر چار بچوں سمیت دس افراد جاں بحق ہوئے اور 13 زخمی ہوئے۔اطلاع ملتے ہی موٹر وے پولیس ،ریسکیو 1122 راولپنڈی اور مقامی افراد کی بڑی تعداد موقع پر پہنچی اور جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کو نکال کر پمز اور دیگر قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا۔ترجمان موٹر وے پولیس ثاقب وحید کا کہنا تھاکہ ہائی ایس وین اس جانب گری جہاں سے دروازے کھولنا ممکن نہ تھا۔موٹروے پولیس کی بھاری نفری اور مری انتظامیہ موقع پر موجود ہے۔حادثے کا شکار ہونے والے افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا جو کہ ملتان سے مری کی جانب جا رہے تھے۔ وین میں دس بچے بھی سوار تھے۔ ترجمان موٹروے پولیس کے مطابق حادثے کے حوالے سے تحقیقات شروع کردی گئیں،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے مری ایکسپریس وے پر گاڑی میں آگ لگنے کے افسوسناک واقعے میں شہریوں کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔وزیراعلیٰ نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کرتے ہوئے واقعے کا فوری نوٹس لے لیا اور متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔انہوں نے ہدایت کی کہ ریسکیو اور انتظامی ادارے متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن معاونت فراہم کریں اور واقعے کی وجوہات کا تعین کر کے جامع رپورٹ پیش کی جائے۔مریم نواز نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کے غم میں حکومت برابر کی شریک ہے اور عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔
محرم سے پہلے سیرکرکے واپس آنےکا کہا، اب لاشیں آئینگی: رشتہ داروں کا نوحہ
ملتان ( خصوصی رپورٹر،سپیشل رپورٹر) پل شوالہ محلہ سوتری وٹ میں محلے داروں اور رشتہ داروں کے مطابق جاں بحق اور زخمیوں کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے، تمام لوگ بچوں اور خواتین کے ہمراہ گزشتہ رات ایک بجے گاڑیوں پر ہنسی خوشی سیر کے لئے مری روانہ ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ محرم سے پہلے سیر کرکے واپس آجائیں گے ۔اب انکی لاشیں واپس آئینگی۔اس لئے انہوں نے مری میں رہنے کے لئے ہوٹلوں میں ایڈوانس بکنگ بھی کروا لی تھی ۔ سوتری وٹ میں موجود ایک کمسن بچے نے بتایا کہ اس کی بہن حادثے میں جاں بحق ہوئی ہے، المناک حادثے پر دل غمگین اور آنکھ اشکبار ہے۔ زخمیوں میں 48 سالہ دیبا اسلم ، ڈیڑھ سالہ ائرا شہباز ، 22 سالہ عباس اسلم، 19 سالہ دعا ، 2 سالہ انعم ، 13 سالہ ابیہا ، 7 سالہ فارس رضا ، 11 سالہ آئزہ،8 سالہ منزہ ، 13 سالہ ذیشان ، 19 سالہ مہناز ، 42 سالہ نازیہ بتول اور 3 سالہ علی اصغر شامل ہیں۔
حادثہ ڈرائیور کو نیند کی وجہ سے پیش آیا، ریسکیو، فائربریگیڈدیرسے پہنچے: عینی شاہدین
ملتان ( خصوصی رپورٹر،سپیشل رپورٹر) عینی شاہدین کے مطابق حادثہ ڈرائیورکونیندآنےکی وجہ سے پیش آیا۔انہوںنے بتایاکہ ہم وہاں سے گزررہےتھے گاڑی کوآگ لگی دیکھ کررک گئے۔تقریباً25منٹ بعدریکسیو1122کی ایمبولینس پہنچی،35سے40منٹ بعد محکمہ جنگلات کی گاڑیاں پہنچیں اورایک گھنٹے بعدفائربریگیڈکی گاڑیاں پہنچیں۔گاڑی میں آتشزدگی کی وجہ سے قریبی جنگلات میں بھی آگ بڑھک اٹھی جسے محکمہ جنگلات کی گاڑیوں نے بجھایا۔عینی شاہدین کے مطابق تین خواتین ،2مرداورایک بچے کوزندہ نکالاگیا۔باقی تما م افرادگاڑی میں زندہ جل گئے،حادثے کاشکارگاڑی میں سوارافرادکے رشتہ داروں کی ایک گاڑی بھی ایک گھنٹہ بعدجائے وقوعہ پرپہنچی۔
محلہ سوتری وٹ میں سوگ، ڈیڈ باڈیز کی شناخت کیلئے ڈی این اے ٹیسٹ کا امکان
ملتان ( خصوصی رپورٹر،سپیشل رپورٹر) مری آتشزدگی واقعہ میں جاں اور زخمیوں کے لواحقین پل شوالہ محلہ سوتری وٹ سے اسلام آباد روانہ ہوگئے ہیں۔ متوفی اور زخمی خاندان کے گھروں کو تالے لگے ہوئے ہیں اور فضا سوگوار ہے جبکہ اہل علاقہ جمع ہیں۔ اہل علاقہ کے مطابق جاں افراد کے عزیز و اقارب ڈیڈ باڈیز اور زخمیوں کو لینے کے لئے چلے گئے۔ ڈیڈ باڈیز کی شناخت کے لئے ڈی این اے ٹیسٹ کیے جانیکا امکان ہے ، اہل علاقہ کا کہنا تھا کہ ان کا کسی سے رابطہ نہیں ہے ۔تاہم امید ہے کہ تمام ضروری کارروائی کے بعد ڈیڈ باڈیز اور زخمی آج رات تک ملتان پہنچیں گے۔







