نشتر : 1500 پنکھے چوری، پولیس اور انتظامیہ میں تنازع، مقدمہ درج نہ ہوسکا

ملتان (وقائع نگار ) نشتر میڈیکل یونیورسٹی و ہسپتال میں 1500 پنکھے چوری ہونے کا معاملہ پولیس تھانہ کینٹ اور نشتر ہسپتال کے درمیان مقدمہ درج ہونے کی بجائے متنازعہ شکل اختیار کرگیا ہے۔مقامی پولیس نے سات روز گزرنے کے باوجود مقدمہ درج نہیں کیا جبکہ پولیس پہلے ملزمان نامزد کرنے پر اٹک گئی ہے۔دوسری جانب نشتر ہسپتال کی انتظامیہ نے انکوائری مکمل کرلی ہے ۔لیکن مرکزی کرداروں کاتعین نہیں کیا گیا ۔تفصیل کے مطابق نشتر میڈیکل یونیورسٹی و ہسپتال میں کچھ روز قبل 1500 پنکھے چوری ہونے کا معاملہ سامنے آیا تھا جس پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مہناز خاکوانی نے پروفیسر ڈاکٹر مظفر عزیز کی سربراہی می انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی ۔ذرائع کے مطابق کمیٹی نے انکوائری مکمل کرلی ہےمگر اس انکوائری میں سارا کا سارا ملبہ نچلے عملے پر ڈالا گیا ہے ۔حالانکہ پنکھے چوری ہونے پر انتظامی عہدوں پر تعینات افسران کے کرداروں کا تعین تک نہیں کیا گیا ۔ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس واقعہ میں انکے کرداروں کو نمایاں چھپایا گیا ہے ۔دوسری طرف پولیس تھانہ کینٹ نے چیف سکیورٹی سپر وائزر مزمل کی جانب سے پنکھے چوری کی درخواست وصول ہونے کے باوجود مقدمہ درج نہیں کیا ۔نشتر ہسپتال عملہ کا کہنا ہے کہ پولیس کہہ رہی ہے کہ سب سے پہلے چوری کے واقعہ میں ملوث ملزمان کو نامزد کیا جائے جس کے بعد مقدمہ درج ہوگا ورنہ مقدمہ درج نہیں گاحالانکہ درخواست وصول ہونے کے بعد سرکار کا مقدمہ درج ہونا ضروری ہوتا ہے۔اس حوالے سے پولیس تھانہ کینٹ کے ایس ایچ او سعید ملک سے پوچھا گیا تو انہوں نے اپنے جواب میں بتایا کہ بالکل پنکھے چوری ہونے کی بابت درخواست تھانے میں اچکی ہے جسکی انکوائری شروع کردی گئی ہے ۔جلد ہی قانونی کارروائی کا باقاعدہ آغاز کردیا جائے گا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں