گھر سے بھاگ کر شادی کرنے والی لڑکی شوہر کے مبینہ تشدد سے جاں بحق

کراچی: سرجانی ٹاؤن میں شوہر کے مبینہ تشدد سے 18 سالہ لڑکی جاں بحق، پولیس نے تحقیقات شروع کر دیں
کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں گھر سے مرضی کے خلاف شادی کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر شوہر کے بہیمانہ تشدد کے نتیجے میں جاں بحق ہو گئی۔
تفصیلات کے مطابق متوفیہ مصباح نے تقریباً چار ماہ قبل گھر والوں کی مرضی کے بغیر ملیر کے رہائشی شہریار سے شادی کی تھی۔ واقعہ سرجانی ٹاؤن کے سیف المری گوٹھ کے قریب پیش آیا جہاں گھر سے لڑکی کی لاش ملنے کی اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچی اور لاش کو تحویل میں لے کر اسپتال منتقل کر دیا۔
اہلخانہ کے مطابق شادی کے بعد سے ہی لڑکی پر مبینہ طور پر تشدد کیا جاتا رہا اور اسے مختلف مطالبات کے ساتھ ہراساں کیا جاتا تھا۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ ملزم خود کو پولیس اہلکار ظاہر کرتا تھا اور دھمکی آمیز رویہ رکھتا تھا۔
متوفیہ کے بھائی کے مطابق ملزم نے نہ صرف لڑکی پر تشدد کیا بلکہ اہلخانہ کو بھی دھمکیاں دیں اور کئی بار گھر میں گھس کر ہراسانی کی گئی۔ اہلخانہ نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ ان کے پاس دھمکی آمیز وائس ریکارڈنگ بھی موجود ہے۔
رپورٹ کے مطابق لڑکی شدید زخمی حالت میں ایک مقام سے ملی، بعد ازاں طبی امداد کے باوجود اس کی حالت بگڑتی گئی اور وہ دم توڑ گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق لڑکی کی موت واقعے سے قبل ہی ہو چکی تھی۔
دوسری جانب اہلخانہ پوسٹ مارٹم اور قانونی کارروائی سے ہچکچاہٹ کا اظہار کر رہے ہیں، تاہم پولیس نے واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ ایس ایس پی ویسٹ کی ہدایت کے بعد کیا جائے گا جبکہ شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں