پاکستان ریلویز میں حفاظتی اقدامات کے باوجود ریل گاڑیوں کے حادثات میں واضح کمی نہ آ سکی اور گزشتہ سات برسوں کے دوران درجنوں سنگین واقعات پیش آئے۔
اعداد و شمار کے مطابق مال بردار اور مسافر ٹرینوں سمیت مختلف نوعیت کے حادثات مسلسل جاری رہے، جن میں ٹرینوں کا پٹری سے اترنا، ٹکراؤ اور دیگر تکنیکی خرابیاں شامل ہیں۔ ان حادثات کے نتیجے میں سو سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ سینکڑوں زخمی ہوئے اور اربوں روپے کا مالی نقصان بھی ہوا۔
سال 2019 سے 2025 تک مجموعی طور پر 752 حادثات رپورٹ ہوئے۔ ان میں مال بردار ٹرینوں کو 292 حادثات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ مسافر ٹرینوں کی ڈی ریلمنٹ کے 191 واقعات پیش آئے۔
اسی طرح انجن فیل ہونے یا بوگیوں کے الٹنے کے 87 واقعات، اوپن پھاٹک پر رکشہ، ٹرالی اور ٹرک سے ٹکر کے 82 واقعات، جبکہ ریلوے لائن پر دیگر حادثات کی تعداد 33 رہی۔
مین پھاٹک پر ٹکراؤ کے 27 واقعات، چلتی اور کھڑی ٹرینوں میں آگ لگنے کے 26 واقعات، مسافر اور مال بردار ٹرینوں کے تصادم کے 6 واقعات، اور بوگیوں کے الٹنے کے 7 واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔
پاکستان ریلویز کے ترجمان کے مطابق سیفٹی نظام کو بہتر بنانے کے لیے نیا ڈائریکٹوریٹ قائم کیا گیا ہے جبکہ عملے کی تربیت اور انفراسٹرکچر اپ گریڈیشن کا عمل جاری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض روٹس پر ٹرینوں کی رفتار کم کی گئی ہے تاکہ حادثات کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ مسافروں کی سہولت کے لیے ملک بھر کے ریلوے اسٹیشنز پر جدید ویٹنگ ایریاز اور لاونجز بھی قائم کیے جا رہے ہیں۔







