بہاولپور( ڈپٹی بیورو چیف، کرائم رپورٹر،نیوز رپورٹر، نمائندہ خصوصی) بہاولپور میں مقامی صحافی پر جان لیوا حملہ۔با اثر سیاسی شخصیات کی جانب سے منشیات فروشوں کی پشت پناہی کا بھی انکشاف۔سینئر صحافی زاہد اویسی پر قاتلانہ حملہ ،ڈپٹی اسپیکر ظہیر اقبال چنڑ اور ملک اقبال چنڑ پر سنگین الزامات، وزیرِ اعلیٰ پنجاب سے فوری نوٹس کا مطالبہ۔تفصیل کے مطابق گزشتہ علی الصبح ورکنگ جرنلسٹ اور مقامی اخبارکے نمائندےمیاں زاہد اویسی پر ناشتہ پوائنٹ پر منشیات فروشوں کی جانب سے قاتلانہ حملہ کیا گیا۔ صحافی برادری نے اس بزدلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے آئی جی پنجاب اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر DPO بہاولپور سے ملزمان کی فی الفور گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ حملے کے فوراً بعد میاں زاہد اویسی نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں سنسنی خیز انکشافات کرتے ہوئے اعلیٰ سیاسی شخصیات کو بے نقاب کر دیا۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ “اگر خدا نخواستہ میری جان چلی گئی تو اس کے براہِ راست ذمہ دار ڈپٹی اسپیکر ملک ظہیر اقبال چنڑ ۔ملک اعجاز چنڑ، ممبر قومی اسمبلی ملک اقبال چنڑ اور منشیات فروشوں کی سرپرستی کرنے والا ملک احسن چنڑ ہوں گے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مسلح افراد نے ان ہی بااثر شخصیات کی ایماء پر ان کی جان لینے کی کوشش کی۔عینی شاہدین کا بھی کہنا ہے کہ ملک احسن چنڑ صحافی زاہد اویسی پر ہونے والے جان لیوا حملے کے وقت موقع پر موجود تھا۔معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے صحافی برادری اور عوامی حلقوں نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔ مطالبہ کیا گیا ہے کہ منشیات فروشوں اور ان کے سیاسی سرپرستوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائی کی جائے، خواہ ان کا تعلق کتنی ہی بڑی کرسی یا سیاسی خاندان سے کیوں نہ ہو۔تمام صحافی برادری نے متفقہ طور پر پولیس انتظامیہ کو 24 گھنٹے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اگر مقررہ وقت کے اندر ملزمان اور ان کے ماسٹر مائنڈز کو گرفتار کر کے کیفرِ کردار تک نہ پہنچایا گیا تو صحافی برادری احتجاج پر مجبور ہو گی۔ دریں اثناء، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر بہاولپور رانا عبدالوہاب نے واقعہ کا فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو فوری کارروائی کی ہدایت جاری کر دی پولیس کے مطابق اطلاع ملتے ہی اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں جبکہ واقعے کے تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں تاہم صحافتی حلقوں کا مؤقف ہے کہ مقدمہ نسبتاً کمزور دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے، جس پر تشویش پائی جا رہی ہے۔ ڈی پی او رانا عبدالوہاب نے اپنے بیان میں کہا کہ صحافیوں کا تحفظ پولیس کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور قانون ہاتھ میں لینے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ صحافتی تنظیموں نے وزیراعلیٰ پنجاب، انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب، ریجنل پولیس آفیسر بہاولپور اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر بہاولپور سے مطالبہ کیا ہے کہ حملے میں ملوث تمام افراد کو فوری گرفتار کیا جائے، مقدمے میں مؤثر اور مناسب دفعات شامل کی جائیں اور صحافی برادری کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ صحافتی حلقوں کے مطابق آزاد صحافت پر حملے نہ صرف اظہارِ رائے کی آزادی پر کاری ضرب ہیں بلکہ ایک مہذب اور جمہوری معاشرے کے بنیادی اصولوں کے بھی منافی ہیں ایسے واقعات کی روک تھام اور ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دلوانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔بہاول وکٹوریہ ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں بہاولپور پریس کلب بہاولپور کے صدر چوہدری سلیم ۔ذیشان لطیف ۔چوہدری عمران شمس ۔صدر سٹی پریس کلب بہاولپور علی رضا ہاشمی ۔ ایس ایم لطیف صدر اتحاد پریس کلب بہاولپور ۔مہر اصغر سیال ڈپٹی بیورو چیف روزنامہ قوم ملتان ۔جنید بخاری اور سینئر صحافیوں افتخارِ عارف ۔عدنان لودھی ۔عبدالکریم طاہر ۔راحیل طاہر ۔ساجد زوہیب ۔رانا انوار اور سماجی سماجی شخصیات نے عیادت کرتے ہوئے اس واقعے کی بھرپور مذمت کی اور اعلیٰ حکام سے کاروائی کا مطالبہ کیا جس پر فوراً ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر بہاولپور عبدالوہاب نے فوری طور پر مقدمہ درج کر دیا مگر جو مقدمہ درج کیا گیا ہے اس میں کمزور دفعات شامل کیے گئے ہیں جس پر بہاولپور کی صحافی برادری کو خدشات ہیں۔تمام صحافی برادری نے متفقہ طور پر پولیس انتظامیہ کو 24 گھنٹے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اگر مقررہ وقت کے اندر ملزمان اور ان کے ماسٹر مائنڈز کو گرفتار کر کے کیفرِ کردار تک نہ پہنچایا گیا تو صحافی برادری احتجاج پر مجبور ہو گی۔بہاولپور ضلع میں منشیات فروشی کا دھندہ عروج پر پہنچ چکا ہے۔ذرائع کے مطابق با اثر سیاسی شخصیات کی پشت پناہی کی بدولت بہاولپور پولیس اور کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی سے گریزاں ہے۔







