واسا منصوبوں میں کرپشن، غیر معیاری مٹیریل استعمال، کراؤن فیلیئرز کے خدشات، حکام کی آنکھیں بند

ملتان ( قوم ریسرچ سیل) واسا کے زیر انتظام منصوبوں میں بے ضابطگیوں کا سلسلہ جاری ، شہر کے وسط میں ایم ڈی اے چوک پر بھی مرمت شدہ اور ٹوٹ پھوٹ کے شکار پائیوں اور غیر معیاری اینٹوں کے استعمال اور ضرورت کی جگہ پر شٹرنگ نہ ہونے اور غیر ضروری مقامات پر شٹرنگ لگائے جانے کا انکشاف ہوا ہے جبکہ ایم ڈی واسا فیصل شوکت اور ڈائریکٹر ورکس حافظ وقاص نے اعلیٰ افسران کی آشیر باد پر ترقیاتی منصوبوں میں ہونے والی ہوشربا کرپشن پر مکمل آنکھیں بند کر رکھی ہیں ، باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ملتان شہر کے وسط میں ایم ڈی اے چوک پر پرک احتشام نامی کمپنی ڈیڑھ ارب روپے کی لاگت سے واسا کے سیوریج منصوبہ پر کام کررہی ہے مذکورہ کمپنی بھی لاہور کی بتائی جارہی ہے۔ روزنامہ قوم کی ٹیم نے موقع پر کاموں کا جائزہ لیا تو وہاں موجود پائپ ایسے پائے گئے جو کہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھے اور ان کو موقع پر ہی مرمت کیا گیا تھا جبکہ متعدد پائپ ایسے بھی موجود تھے جن پر دراڑیں موجود تھیں اور کریک زدہ تھے اس کے علاوہ اینٹیں بھی ناقص استعمال کی جارہی ہیں جوکہ تیسرے درجے کی ہیں ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ منصوبوں ایسی جگہوں پر شٹرنگ لگائی جارہی ہے جہاں ضرورت نہیں ہے اور بعض ایسے مقامات ہیں جہاں شٹرنگ کی ضرورت نہیں ہے لیکن وہاں شٹرنگ لگائی جارہی ہے لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ شٹرنگ تمام جگہ پر لگانے کی پیمنٹ وصول کی جارہی ہے ، ایک سابق سول انجینئر کے مطابق تنگ گلیوں والی جگہ پر شٹرنگ کی خاص ضرورت ہوتی ہے لیکن وہاں شٹرنگ نہیں لگائی جارہی ہے جوکہ کرپشن کے زمرے میں آتا ہے وہاں شٹرنگ اس لئے لگائی جاتی ہے کہ ارد گرد کے مکانوں کو نقصان نہ پہنچے تنگ گلیوں میں سیوریج کی کھدائی سے عمارتوں کی بنیادیں کمزور اور گرنے کا خدشہ ہوتا ہے ، قوم ٹیم کو موقع پر موجود لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ حیران اور پریشان ہیں کہ سیوریج کے منصوبے میں اتنا ناقص میٹریل استعمال کیا جارہا ہے جس کی کوئی حد نہیں ہے ۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ ایم ڈی اے چوک کے قریب سورج میانی روڈ پر قبل ازیں بھی بڑے کراؤن فیلیئر کا واقعہ رونما ہوچکا ہے جس میں میٹرو بس زمین میں دھنس گئی تھی ۔ جاری منصوبوں میں بھی ناقص اور غیر معیاری میٹریل کے استعمال سے کراؤن فیلیئر کے واقعات ہونے کا خدشہ ہے جس سے اربوں کا پراجیکٹ بے فائدہ رہے گا ۔ واضح رہے کہ ایم ڈی واسا فیصل شوکت اور ڈائریکٹر ورکس حافظ وقاص کی ملتان کی تاریخ کی بڑے سیوریج منصوبہ میں ناقص میٹریل اور کرپشن پر خاموشی معنی خیز ہے ۔

ایم ڈی اے کے مرکزی دفتر کے نزدیک سورج میانی روڈ پر زمین میں دھنسی ہوئی یہ ویڈا بس واسا ملتان کی آلودہ کارکردگی کا پول کھول رہی ہے۔ ملتان پنجاب کا واحد شہر ہے جہاں سب سے زیادہ کرائون فیلیئر کے واقعات ہوتے ہیں۔ کراؤن فیلیئر میں زیر زمین سیوریج کے ناقص پائپ گل کر پھٹ جاتے ہیں اور سڑکیں زمین میں دھنس جاتی ہیں۔ اب بھی واسا انتظامیہ 25 ارب روپے کے ترقیاتی کاموں کے ساتھ یہی کھلواڑ کر رہی ہے۔ چند ماہ قبل پرانا شجاع آباد روڈ اور وہاڑی روڈ پر بھی اسی قسم کا کراون فیلیئر ہوا تھا۔

’’قوم‘‘ کی نشاندہی پرکمشنر ملتان کا ایکشن واسا افسران طلب

ملتان ( قوم ریسرچ سیل ) واسا کے جاری ترقیاتی منصوبوں میں غیر معیاری میٹریل کے استعمال اور کرپشن کے بارے روزنامہ قوم کی خبروں پر کمشنر ملتان ڈویژن عامر کریم خان نے ایکشن لے لیا ، کمشنر ملتان نے واسا افسران کو طلب کرکے کام کا معیار بہتر بنانے کی وارننگ دیدی ہے کمشنر نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ، آئندہ اگر کسی بھی سائٹ پر غیر معیاری کام کی شکایت موصول ہوئی تو اس کا سخت ایکشن لیا جائے گا ۔

شیئر کریں

:مزید خبریں