کوٹ ادو (نامہ نگار) کوٹ ادو میںسال 2025 میںپانچ بیگناہ نوجوان شک کی بنیاد پر پولیس کے ہاتھوں موت کی نیند سوگئے۔سوشل میڈیا اور میڈیا پر پولیس کی مشکوک کارکردگی پہ سوالات اٹھائے گئے مگر کونسا ایسا طاقتور سسٹم تھا کہ سارے معاملات دب کر رہ گئے ۔چھ ماہ قبل شک کی بنیاد پر گرفتار ایک محنت کش نوجوان کی موت پولیس حراست میں ہوئی۔ پوسٹمارٹم رپورٹ میں ہارٹ اٹیک بتایا گیا جبکہ فرانزک رپورٹ میں گلادبانے سے موت قرار دیا گیا ۔ اس سلسلے میں تفصیل کیمطابق نومبر 2025 میں ٹک ٹاکر ویلا منڈا کے والد کے اغواء کی خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ۔وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے حکم پر قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آئے اور شادن لُنڈ کی بستی علیانی کے چار نوجوان جنہوںنے محنت مزدوری کی غرض سے کوٹ ادو کے ایک محلے میں کام کی غرض سے مکان کرائے پر لیا ہوا تھا راتوں رات پولیس مقابلے میں پار کرکے اعلیٰ افسران کو کیس کلیئر کی رپورٹ ارسال کردی ۔ سوشل میڈیا پر بیگناہ نوجوانوں کی ہلاکت پر پولیس کی مشکوک کارکردگی پر سینکڑوں سوالات اٹھائے گئے۔ روزنامہ قوم نے بھی حقائق پر مبنی رپورٹ شائع کی۔ سوشل میڈیا پر معصوم بیگناہ نوجوانوں کی موت پر وی لاگ بھی کئے گئے مگر وہ کونسا طاقتور سسٹم تھا جس نے پورا چیپٹرہی بند کردیا ۔جوڈیشل انکوائری کے مطالبے بھی کئے گئے ۔ٹھیک دو ماہ بعد جنوری 2025 کو انعم بشیر اغوا کیس میں تھانہ سٹی کوٹ ادو میں تو ویسے درجنوں لوگوں کو شک کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا مگر مبینہ طور پر تھانیدار اور تفتیشی بھاری رقوم لیکر انہیں چھوڑتے ر ہے۔ اسی کیس میں ایک غریب محنت کش نوجوان عمران عرف مانی کو بھی گرفتار کیا گیا جو باربر کا کام کرتا تھا۔ مبینہ طور پر تفتیش کے دوران تھانے میں اسکی موت واقع ہوگئی۔ ڈیڈ باڈی کو ٹی ایچ کیو لے جایا گیا ۔ تفتیشی سعیدہ خالق کے ماموں ڈاکٹر نے پوسٹمارٹم کیا اور موت کی وجہ ہارٹ اٹیک قرار دے دی گئی اب جو پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی نے رپورٹ جاری کی اس رپورٹ میں موت گلا دبانے سے واقع قراردیاگیا۔ پوسٹمارٹم رپورٹ اور فرانزک کی جاری کردہ رپورٹ میں تضاد ہے ۔اس رپورٹ سے قبل ایف آئی اے ودیگر قانونی اداروں نے جو تحقیقات کیں اس میں سعیدہ خالق کو قصوروار ٹھہراتےہوئے تفتیشی سعیدہ خالق کو ڈسمس فرام سروس کردیا گیا ۔ کیا پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی جاری رپورٹ پر قانون نافذ کرنے والے ادارے دوبارہ از سر نو کیس اوپن کرینگے اور تحقیقات کا دائرہ وسیع کرکے بیگناہ محنت کش کے قاتل کو قانون کے کٹہرے میں لائینگے یا پھر ویلا منڈا والد اغوا کیس کیطرح چار بیگنا ہوں کی ہلاکت کی طرح یہ کیس بھی کلوز ہوجائیگا۔ مختلف عوامی حلقوں و سوشل میڈیا پر آئے روز ایسے سوالات کئےجارہےہیں ۔







