ملتان (سٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کی جانب سے سرکاری اخراجات میں کمی، کفایت شعاری اور غیر ضروری تقریبات پر پابندی کے واضح احکامات کے باوجود محمد نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (MNS-UET) ملتان کی انتظامیہ نے اپلائیڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس میں جدیدیت کے موضوع پر ایک بین الاقوامی کانفرنس خیبر پختونخوا کے سیاحتی مقام گلیات میں واقع یونیورسٹی آف پشاور کے 12 گلی کیمپس میں منعقد کروانے کا فیصلہ کرکے کئی سنگین سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ ایک ایسی یونیورسٹی جو خود آج تک اپنے مستقل کیمپس سے محروم ہے، کرائے کی عمارت میں کام کر رہی ہے، جس کے اپنے زیر تعمیر کیمپس پر پہلے ہی کروڑوں روپے خرچ ہو چکے ہیں اور مزید کروڑوں روپے درکار ہیں وہ آخر کس بنیاد پر ایک کانفرنس کو سینکڑوں کلومیٹر دور دوسرے صوبے میں منعقد کرنے جا رہی ہے؟ اگر محمد نواز شریف یو ای ٹی کے پاس اپنا آڈیٹوریم موجود نہیں تو کیا ملتان کی کسی سرکاری یا نجی یونیورسٹی میں ایسا آڈیٹوریم موجود نہیں جہاں یہ کانفرنس منعقد کی جا سکتی تھی؟ کیا ملتان میں موجود تعلیمی ادارے اس معیار کی کانفرنس کی میزبانی کے اہل نہیں تھے؟ اگر تھے تو پھر لاکھوں روپے کے اضافی اخراجات برداشت کرکے کانفرنس کو گلیات منتقل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ ذرائع کے مطابق کانفرنس کے لیے 14 جون کو روانگی، 15 جون کو گلیات پہنچنا، 16 اور 17 جون کو کانفرنس کا انعقاد، 18 جون کو واپسی اور 19 جون کو ملتان پہنچنے کا شیڈول طے کیا گیا ہے۔ یوں چھ روزہ یہ پروگرام سرکاری وسائل، سفری اخراجات، رہائش، یومیہ الاؤنسز اور دیگر انتظامی اخراجات کی مد میں یونیورسٹی پر ایک بڑا مالی بوجھ بن سکتا ہے۔ کانفرنس میں یونیورسٹی کی فیکلٹی کو مفت شرکت کی سہولت دی جا رہی ہے جبکہ صنعتی شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد بھی بغیر فیس شریک ہوں گے۔ دوسری جانب یونیورسٹی کے طلبہ سے 300 روپے اور دیگر جامعات کے طلبہ سے 500 روپے بطور رجسٹریشن فیس وصول کی جائے گی۔ سوال یہ ہے کہ جب شرکاء کی بڑی تعداد مفت شرکت کرے گی تو اتنے بڑے پروگرام کے اخراجات پورے کیسے ہوں گے؟ کیا یہ بوجھ بالآخر سرکاری خزانے اور یونیورسٹی کے محدود وسائل پر نہیں پڑے گا؟ جب پورے ملک میں توانائی اور اخراجات کی بچت کے نام پر اضافی تعطیلات دی جا رہی ہیں، سرکاری اداروں کو کفایت شعاری اختیار کرنے کی ہدایات جاری کی جا رہی ہیں اور غیر ضروری تقریبات پر پابندیاں لگائی جا رہی ہیں تو پھر ایک نئی قائم ہونے والی یونیورسٹی کی انتظامیہ کس جواز کے تحت دوسرے صوبے میں کانفرنس منعقد کرنے جا رہی ہے؟ یہ تمام سوالات نئے تعینات ہونے والے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر توصیف ایزد کی انتظامی ترجیحات پر بھی سوالیہ نشان بن گئے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر واقعی اپلائیڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس جیسے اہم موضوع پر علمی سرگرمی مقصود تھی تو اسے ملتان میں منعقد کرکے نہ صرف قومی وسائل کی بچت کی جا سکتی تھی بلکہ جنوبی پنجاب کے طلبہ، محققین اور صنعتکاروں کو بھی براہ راست فائدہ پہنچایا جا سکتا تھا۔ ادھر یونیورسٹی کے غیر قانونی رجسٹرار و غیر قانونی پروفیسر ڈاکٹر عاصم عمر کا کردار بھی ایک مرتبہ پھر تنقید کی زد میں آ گیا ہے۔ ان کی غیر قانونی تعیناتی اور غیر قانونی ترقیوں کے حوالے سے پہلے ہی مختلف اعتراضات، انکوائری رپورٹس اور آڈٹ مشاہدات سامنے آ چکے ہیں، جبکہ متعلقہ حکام کی رپورٹس میں بھی متعدد سوالات اٹھائے گئے تھے۔ اس کے باوجود موجودہ انتظامیہ کی جانب سے انہی کے مشوروں پر فیصلے کیے جانے کو بھی شفاف طرز حکمرانی کے دعوؤں کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔ تعلیمی و عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت پنجاب، محکمہ ہائر ایجوکیشن اور متعلقہ نگران ادارے اس معاملے کا جائزہ لیں اور قوم کو بتایا جائے کہ آخر ایسی کون سی ناگزیر وجہ تھی جس کی بنا پر کانفرنس کو ملتان کے بجائے گلیات منتقل کیا گیا؟ کیا واقعی یہ کانفرنس صرف گلیات میں ہی ممکن تھی؟ کیا ملتان کی جامعات اور ان کے آڈیٹوریم اس مقصد کے لیے ناکافی تھے؟ اور سب سے اہم سوال یہ کہ کفایت شعاری مہم کی دھجیاں اڑانے کی ذمہ داری آخر کس پر عائد ہوگی؟







