ملتان: حکم امتناع کے باوجود مہاجرین کی جائیدادیں ٹرانسفر، افسران سہولتکار، متاثرین دربدر

ملتان (سٹاف رپورٹر) ملتان میں تعینات اعلیٰ آفیسرز محض دعوے کرتے ہیں اور زبانی جمع خرچ میں لگے رہتے ہیں، فراڈیوں جعل سازوں اور لینڈ مافیا کے خلاف ہاتھ ڈالتے ہوئے ان کے ہاتھ نہ صرف کانپتے ہیں بلکہ بہت سے طاقتور افسر اس مافیا کے سہولت کار ہیں۔ کون سا ایسا فورم ہے اور کون سا ایسا محکمہ جہاں ہم نے دہائی نہیں دی ۔رہا معاملہ عدلیہ کا تو عدالتی حکم امتناعی بھی ان انتظامی اور تحقیقاتی اداروں کے افسران کے سامنے بے بس ہے۔ عدالت کی طرف سے حکم امتناعی کے باوجود نہ صرف ملتان کے قیمتی موضع متی تل میں مہاجرین کی جائیدادیں غیر قانونی طور پر ٹرانسفر ہو رہی ہیں بلکہ دھڑا دھڑ فراڈ اور جعل سازیاں جاری ہیں اور کوئی افسر بات سننے کو تیار نہیں۔ ہم سرکاری دفاتر ،کمشنر اور ڈپٹی کمشنر آفس کے دھکے کھا کر تنگ آ چکے ہیں۔ اوپر سے ایک ٹیلی فون کال آتی ہے اور انصاف دھرے کا دھرا رہ جاتا ہے۔ اس کرب کا اظہار روزنامہ قوم ملتان کے دفتر میں موضع متی تل میں 1947 میں بھارت سے ہجرت کرکے آئے مہاجرین نے دوبارہ مسلمانوں کے ہاتھوں لٹے جانے پر گریہ زاری کرتے ہوئے کیا۔ مدنی گیلانی ولد سید الطاف حسین گیلانی اور محمد عمران لو ٹھڑ ولد دوست محمد لو ٹھڑ جیسے فراڈیوں کے ہاتھوں لٹنے والے محمد اسحاق ولد سجاول، محمد دلاور ولد چوہدری خورشید، محمد اختر ولد اصغر علی، محمد وارث ولد محمد اسلم، محمد مختار ولد بشیر احمد، سردار علی ولد حافظ فیض احمد، حق نواز ولد نور دین، جاوید اقبال ولد محمد اقبال اور اللہ دتہ ولد محمد شریف نے روزنامہ قوم کو بتایا کہ محمد عمران لو ٹھڑ ولد دوست محمد خان لو ٹھڑ، محمد اشفاق لو ٹھڑ ولد دوست محمد خان لو ٹھڑ اور مدنی گیلانی ولد سید الطاف حسین گیلانی نامی جعل سازوں کی 1947 سے لے کر 2022 تک موضع متی تل میں ایک مرلہ زمین بھی نہ تھی مگر اس کے بعد پٹواری ناصر جاوید نے ان فراڈیوں کے ساتھ مل کر جعل سازی شروع کی اور ہماری ملکیتی اراضی ٹرانسفر کرنا شروع کر دی۔ توجہ طلب امر یہ ہے کہ محکمہ مال کی طرف سے تھانہ اینٹی کرپشن ملتان کو جو تحریری ریکارڈ فراہم کیا گیا ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ عمران لو ٹھڑ کی والدہ حمید اختر زوجہ دوست محمد کے نام جو انتقال درج ہے وہ سب کا سب جعلی ہے اور ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ مسمات حمید اختر زوجہ دوست محمد قوم لو ٹھڑ موضع متی تل میں کسی بھی طور پر حقوق موروثیت کا کسی بھی قسم کا کوئی استحقاق نہ رکھتی ہےنہ ہی کسی بھی انتقال کے حوالے سے مالک ا راضی ثابت ہو رہی ہے اور نہ ہی جمع بندی سال 1970، 71 مثل حقیقت سے لے کر جمع بندی سال 2008، 09 تک ریکارڈ میں کہیں اس کا کوئی نام ہے لہٰذاانتقال نمبر 11300 11301 11302 113 اور 11304 بالکل جعلی بوگس اور بے بنیاد ہے اور اسی طرح اس کے تحت ہونے والے انتقالات نمبری 11306، 11307، 11308 بھی جعلی بوگس اور بے بنیاد ہیں۔ مدعیان جاوید اقبال وغیرہ کھاتہ نمبران 466 467 490 494 457 357 418 437 اور 453 میں حقیقی مالکان اور مزارعین موروثی چلے آ رہے ہیں۔ جدی پشتی طور پر درج بالا رقبہ میں موروثی مالکان چلے آ رہے ہیں درج بالا رقبہ پر قابض کاشتکار بھی چلے آ رہے ہیں۔ حمید اختر زوجہ دوست قوم لو ٹھڑ کا اس رقبہ سے کسی قسم کا کوئی قانونی واخلاقی حق نہ بنتا ہے یہ رپورٹ 19 جون 2025 کو محکمہ مال کی طرف سے تحریری طور پر اینٹی کرپشن ملتان میں جمع کروائی گئی مگر اس پر کسی قسم کی کوئی پیش رفت نہ ہوئی اور اینٹی کرپشن کے تفتیشی تمام رپورٹس کو دبا کر بیٹھے ہوئے ہیں، 31 مئی 2025 کو بھی محکمہ مال کی طرف سے تھانہ اینٹی کرپشن میں جو تحریری رپورٹ جمع کروائی گئی اس میں بتایا گیا کہ انتقال نمبر 11202 عطائے حقوق ملکیت محمد عامر ولد حافظ علی شیر قوم راں کے نام جو 32 کنال رقبہ درج ہوا ہے جو کہ بالکل جعلی اور بے بنیاد ہے۔ محمد عامر ولد حافظ شیر علی کو جعلی بوگس اور بے بنیاد طریقے سے مالک اراضی ظاہر کیا گیا ہے اور بعد ازاں اسی انتقال کے تحت انتقال نمبر 11245 من جانب محمد حافظ علی شیر قوم راں بحق محمد افتخار جاوید ولد عمر قوم جٹ راں کے نام 32 کنال رقبہ جعلی طور پر منتقل کیا گیا ہے بعد ازاں انتقال نمبر 11245 کے تحت انتقال نمبر 11260 منجانب محمد افتخار جاوید پراچہ ولد منظور پراچہ قوم پراچہ 16 کنال حسن ظفر ولد ظفر اقبال وینس بہت محمد زین عقیل قریشی ولد عقیل احمد قریشی کا نام منتقل کیا ہے وہ بھی جعلی ہے اور خلاصہ رپورٹ یہ ہے کہ انتقال نمبر 11202 بوگس جعلی اور بے بنیاد ہیں اور اس کے تحت درج ہونے والے انتقا انتقالات نمبری 11245 11260 اور 11272 بھی جعلی بوگس اور بے بنیاد ہے اس لیے قابل اخراج ہیں، بعض انتقال نمب11320 اور 11321 عطائے حقوق ملکیت بحق عائشہ جاوید زوجہ محمد جاوید اقبال قوم صدیقی بھی جعلی بوگس اور بے بنیاد درج ہوئے ہیں۔ عائشہ جاوید کسی طور پر بھی مذکورہ موروثی رقبہ کے حقدار نہ ہے۔بعد ازاں انتقال نمبر 11322 میں عائشہ جاوید زوجہ جاوید اقبال صدیقی نے اپنی بیٹی زنیرہ مہرین دختر محمد جاوید کے نام پر جعلی طور پر تملیک کر دیا ہے۔ اس طرح انتقالات نمبر 11320 اور انتقال نمبر 11321 بوگس جعلی اور بے بنیاد ہیں اس کے تحت درج ہونے والے انتقال 11322 بھی جعلی بوگس اور بے بنیاد ہے۔ اسی طرح لیاقت علی صدیقی محمد علی ولد محمد ارشد کے نام رقبہ 14 کنال اٹھ مرلے بھی جعلی اور بوگس ہے اور یہ تمام غلط طریقے سے اندراج ہوئے ہیں۔ م انتقال نمبر 11272 میں جعلی انتقال نمبر 11260 مذکور سے حاصل کردہ رقبہ 16 16 مرلے حسن ظفر اقبال ظفر اقبال وینس، محمد زین عقیل قریشی ولد عقیل احمد قریشی کے نام منتقل کیا گیا ہے خلاصہ رپورٹ یہ ہے کہ پہلا انتقال نمبر 11202 جو کہ جاری بغضب بے بنیاد ہے اس کے تحت درج ہونے والے انتقالات 11245 11260 اور 11272 جعلی بوگس اور بے بنیاد ہیں اس لیے یہ قابل اخراج ہیں۔ بوگس انتقال نمبر 11321 اور 11320 عطائے حقوق ملکیت بحق عائشہ جاوید زوجہ محمد جاوید اقبال قوم صدیقی بھی جعلی بوگس اور بے بنیاد ہے عائشہ جاوید مذکورہ کسی طور پر بھی موروثی رقبہ کی حقدار نہ ہے بعد ازاں رقبہ انتقال نمبر 11322 اور 11321 بحق عائشہ جاوید اقبال صدیقی بھی جعلی بوگس اور بے بنیاد درج ہوئے ہیں عائشہ مذکورہ کسی طور پر بھی موروثی رقبہ کی حقدار نہ ہے بعد ازاں یہی رقبہ انتقال نمبر 11322 میں عائشہ جاوید بحق زنیرا مہرین دختر محمد جاوید اقبال صدیقی قوم صدیقی کا نام جعلی طور پر تملیک کر دیا ہے اس طرح انتقالات 11320 اور 11321 بی جاری ہے اس کے تحت درج ہونے والے انتقال نمبر 11322 جعلی بوگس اور بے بنیاد ہیں اس لیے تمام تر قابل اخراج ہیں۔ اس تمام صورتحال کا سب سے شرمناک پہلو یہ ہے کہ جعل سازوں نے اپنی والدہ اہلیہ اور بیٹیوں کے نام بھی یہ جعل سازی جاری رکھی۔ عمران لوٹھڑ اور اس کے بھائی اشفاق لوتھڑ نے بھی اپنی والدہ حمید بی بی زوجہ دوست محمد کا نام اس جعل سازی نے استعمال کیا۔20 نومبر 2023 کو محکمہ مال کی طرف سے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو ایک اور تحریری رپورٹ جمع کرائی گئی جس میں بتایا گیا کہ برخاست شدہ پٹواری ناصر جاوید ریکارڈ لے کر غائب ہے اور ریکارڈ واپس جمع کروانے سے انکاری ہے اس کے خلاف ریکارڈ جمع نہ کرانے کی وجہ سے تھانہ بی ذیڈ میں مقدمہ بھی درج ہے مگر وہ ریکارڈ جمع نہیں کروا رہا۔ توجہ طلب امر یہ ہے کہ سادات رسول جج کا حکم امتناعی کو محکمہ مال تسلیم کرنے کو تیار ہی نہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں