اربوں خرچ، ہزاروں پی ایچ ڈیز، پھر بھی پاکستان سائنسی، صنعتی اور معاشی ترقی میں پیچھے

ملتان (سٹاف رپورٹر) پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی نظام میں اربوں روپے کے سرکاری فنڈز، ہزاروں پی ایچ ڈی سکالرز اور لاکھوں تحقیقی مقالوں کے باوجود ملک سائنسی، صنعتی اور معاشی میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرنے میں کیوں ناکام رہا؟ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ملک میں جامعات کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا، ہزاروں پی ایچ ڈی ڈگریاں جاری کی گئیں اور تحقیقی اشاعتوں کے نئے ریکارڈ قائم کیے گئے لیکن اس تمام سرگرمی کا قومی معیشت، ٹیکنالوجی کی ترقی، صنعتی جدت اور روزگار کے مواقع پر انتہائی محدود اثر پڑا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر تحقیق کا نتیجہ نئی مصنوعات، نئی صنعتوں، نئی ٹیکنالوجیز اور روزگار کی صورت میں سامنے نہیں آ رہا تو پھر یہ اربوں روپے آخر کہاں خرچ ہو رہے ہیں؟ پاکستان میں تحقیق اور صنعت کے درمیان ایک گہری خلیج موجود ہے۔ یونیورسٹیوں میں ہونے والی بیشتر تحقیق محض مقالوں اور ترقیوں تک محدود رہ جاتی ہے جبکہ ملکی صنعتوں کو درپیش حقیقی مسائل پر توجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ نتیجتاً تحقیقی منصوبے لائبریریوں اور ڈیجیٹل آرکائیوز کی زینت تو بن جاتے ہیں لیکن عوامی اور معاشی ترقی میں ان کا کوئی نمایاں کردار نظر نہیں آتا۔ مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور پاکستان سائنس فاؤنڈیشن کی جانب سے فراہم کیے جانے والے فنڈز اکثر ان مراحل تک نہیں پہنچتے جہاں کسی تحقیق کو عملی شکل دی جا سکے۔ پروٹوٹائپ سازی، پیٹنٹ رجسٹریشن، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور سٹارٹ اپس کی توسیع جیسے اہم مراحل مسلسل نظر انداز ہوتے رہے ہیں۔ یونیورسٹیوں میں قائم ORIC دفاتر بھی بیشتر مواقع پر محض کاغذی کارروائی تک محدود دکھائی دیتے ہیں۔ دوسری جانب ملک کو ’’برین ڈرین‘‘ کے شدید بحران کا سامنا ہے۔ اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل محققین، سائنسدان اور پی ایچ ڈی گریجویٹس بہتر مواقع، تحقیقی سہولیات اور مالی استحکام کی تلاش میں بیرون ملک منتقل ہو رہے ہیں۔ یوں پاکستان اپنے ہی سرمائے سے تیار کیے گئے ذہین ترین افراد سے محروم ہوتا جا رہا ہے جبکہ ان کی صلاحیتوں کا فائدہ ترقی یافتہ ممالک اٹھا رہے ہیں۔ اصل مسئلہ تحقیق کا وجود نہیں بلکہ تحقیق کو عملی نتائج میں تبدیل کرنے میں نظام کی ناکامی ہے۔ جب تک جامعات کی کارکردگی کا معیار صرف تحقیقی مقالوں کی تعداد، کانفرنسوں اور کاغذی اہداف پر مبنی رہے گا، تب تک قومی ترقی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔ اگر فوری اصلاحات نہ کی گئیں تو پاکستان کا اعلیٰ تعلیمی شعبہ محض ڈگریوں اور تحقیقی اشاعتوں کے اعداد و شمار پیدا کرنے والا ایک مہنگا نظام بن کر رہ جائے گا۔ وقت آ گیا ہے کہ تحقیق کو فائلوں اور جرائد سے نکال کر فیکٹریوں، مارکیٹوں، ہسپتالوں، کھیتوں اور عوامی زندگی تک پہنچایا جائے ورنہ اربوں روپے کی سرمایہ کاری کے باوجود قومی ترقی کا پہیہ جمود کا شکار ہی رہے گا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں