’’ٹانگ کٹوا کر آؤ پھر معذوری سرٹیفکیٹ بنے گا‘‘وکٹوریہ ہسپتال میں مریض کی تضحیک

بہاولپور ( نیوز رپورٹر ) گورنمنٹ وکٹوریہ ہسپتال کا آرتھوپیڈک ڈیپارٹمنٹ اور ہسپتال انتظامیہ انسانیت اور اخلاقیات کے تمام تقاضے بھول گئے جبکہ ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر نصیر چوہدری اپنا پرائیویٹ کلینک چلانے میں مصروف ہیں، کینسر اور ہپ جوائنٹ کے شدید مسائل میں مبتلا ایک معذور اور بیمار شہری کو طبی امداد اور ہمدردی کے بجائے ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے ایسا زہر آلود جواب ملا جس نے انسانیت کا سر شرم سے جھکا دیا۔ بہاولپور کے رہائشی رانا مسرت حسین نے روزنامہ قوم سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ کینسر، ہپ جوائنٹ کے شدید مسائل چلنے پھرنے میں معذوری اور دیگر کئی پیچیدہ بیماریوں سے لڑ رہے ہیں، اپنی تمام تر میڈیکل رپورٹس اور سرجری کی دستاویزات لے کر وکٹوریہ ہسپتال کے آرتھوپیڈک ڈیپارٹمنٹ میں صرف ایک میڈیکل اسیسمنٹ طبی جائزے کے لیے حاضر ہوئے۔مریض کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ قانون کے مطابق اپنی طبی حالت کا جائزہ کروانا چاہتا تھا لیکن وہاں موجود مبینہ ایڈمنسٹریشن/ سینئر رجسٹرار ڈاکٹر آفتاب نے تمام دفتری و اخلاقی حدود پار کرتے ہوئے انتہائی گری ہوئی گفتگو کی اور کہا اگر تمہیں معذوری کا سرٹیفکیٹ لینے کی بہت جلدی ہے تو اپنی ٹانگ کٹوا کر آؤ، ابھی سرٹیفکیٹ بنا دیتے ہیں ایم ایس بہاولپور ڈاکٹر عبدالرحمٰن اور اعلیٰ حکام کی نااہلی پر بڑا سوال ایک کینسر کے مریض کے زخموں پر نمک چھڑکنے والے اس ڈاکٹر کے خلاف جب رانا مسرت حسین نے ایم ایس وکٹوریہ ہسپتال کا دروازہ کھٹکھٹایا تو روایتی بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایم ایس بھی اس ڈاکٹر کے سامنے بے بس نظر آئے اور کوئی کارروائی کرنے میں ناکام رہے۔مریض نے تھک ہار کر متعلقہ حکام اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے پورٹل پر بھی شکایت درج کروائی لیکن افسوس کہ اب تک ہسپتال انتظامیہ کو بچانے کے لیے معاملے کو دبایا جا رہا ہے اور کوئی مؤثر پیش رفت نہیں ہوئی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں