پاکستان نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معلومات امریکا کو دینے کی رپورٹس کو مسترد کر دیا

اسلام آباد: پاکستان نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معلومات امریکا کے ساتھ شیئر کیے جانے کی خبروں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں واضح کیا کہ پاکستان نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق کسی بھی قسم کی معلومات امریکا کے ساتھ شیئر نہیں کیں۔
انہوں نے 29 مئی کو اسحاق ڈار اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی مبینہ ملاقات سے متعلق سامنے آنے والے دعوؤں کی بھی واضح الفاظ میں تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ رپورٹس بے بنیاد، گمراہ کن اور حقائق کے منافی ہیں۔
ترجمان کے مطابق پاکستان کی خارجہ پالیسی اصولی مؤقف، علاقائی استحکام اور باہمی احترام پر مبنی ہے، اور کسی بھی ملک کے خلاف خفیہ معلومات کے تبادلے سے متعلق قیاس آرائیوں میں کوئی صداقت نہیں۔
دفتر خارجہ نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کے تحت دریاؤں کے پانی سے متعلق ممکنہ اقدامات پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے اسے عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ترجمان نے خبردار کیا کہ اگر بھارت نے پانی روکنے یا اسے بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کی تو پاکستان کے پاس جواب دینے کے تمام آپشنز موجود ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی آبی اور غذائی سلامتی کے خلاف کسی بھی غیر قانونی اقدام کو قبول نہیں کرے گا۔
بریفنگ میں ترجمان نے ابراہیمی معاہدے سے متعلق پاکستان کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ اس پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
انہوں نے بتایا کہ دس پاکستانی شہری اب بھی صومالی قزاقوں کے قبضے میں ہیں، اور ان کی محفوظ واپسی کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ اسی طرح آزاد کشمیر کے رہائشی ذیشان کی بھارتی فوج کے ہاتھوں لائن آف کنٹرول پر گرفتاری کا معاملہ بھی اٹھایا گیا، جس کی جلد رہائی کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی میں کمی اور امن کے فروغ کے لیے فعال سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے خیرمقدم کے ساتھ ساتھ کویت اور بحرین پر حملوں کی مذمت بھی کی۔
مزید برآں، انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلسل افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کا سامنا کر رہا ہے اور اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام جائز اور قانونی اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں