پنجاب میں آندھی نے پھلوں کے بادشاہ کی سلطنت الٹ دی، آم کی فصل 20 فیصد تباہ

ملتان (سٹاف رپورٹر) بدھ کی رات اپر سندھ اور پنجاب بھر میں آنے والی شدید آندھی اور بارش کی وجہ سے آم کی فصل کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے اور آموں کے باغات کے مالکان کے مطابق پنجاب میں آم کی فصل کا نقصان 18 سے 20 فیصد ہے جبکہ سندھ میں 8 سے 10 فیصدکیونکہ سندھ کا آم پک اور اتر کر مارکیٹ میں فروخت کے لیے جا چکا تھا اور آخری ورائٹی باقی تھی جبکہ پنجاب میں آم کی ابتدائی اقسام سمیت تمام اقسام اس آندھی کا شکار ہو گئی ہیں کیونکہ پنجاب کا آم ابھی کچا تھا اور اس کی گٹھلی بھی پوری طرح تیار نہیں ہوئی تھی جس وجہ سے پنجاب میں نقصان بہت زیادہ ہوا ہے۔ آندھی کی وجہ سے ہزاروں درخت جڑوں سے اکھڑ گئے اور باغات کو بھی شدید نقصان پہنچا جبکہ باغات کے کناروں پر لگے ہوئے درخت بھی ٹوٹنے کی اطلاعات ملی ہیں۔ سندھ میں حیدرآباد ،نواب شاہ ،سکھر، ڈہرکی، میرپور خاص، خیرپور میرس، لاڑکانہ جزوی طور پر متاثر ہوئے ہیں جبکہ پنجاب میں ملتان ، رحیم یار خان، بہاولپور، لیہ ،بھکر، نورپور تھل، خوشاب، میا نوالی ،فیصل آباد ،جھنگ،ساہیوال، بہاول نگر، سرگودھا سمیت متعدد علاقے لاہور تک آندھی سے متاثر ہوئے ہیں۔ محکمہ زراعت کی طرف سے کاشتکاروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ گرے ہوئے آم 48 گھنٹے کے اندر اندر باغوں سے ہٹا لیں کیونکہ اگر یہ وہاں پڑے رہے تو یہ گل جائیں گے اور ان میں فروٹ فلائی پیدا ہو سکتی ہے جو درختوں پر لگی فصلوں کو بھی نقصان پہنچائے گی۔ ملتان اور گردو نواح میں اس وقت صورتحال یہ ہے کہ زمین پر گرے آم اٹھانے کے لیے مزدور نہیں مل رہے اور رات کی آندھی نے آموں کی فصل کے ٹھیکے داروں جنہیں عرف عام میں بیکھر کہا جاتا ہے، کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ پنجاب میں سرکاری اور نجی سطح پر چونکہ آم کی فصل کی بائی پروڈکٹس بنانے کی نہ کوئی تربیت ہے اور نہ ہی سرکاری سطح پر کوئی کارخانے اس لیے آندھی سے گرے ہوئے آم کسی کام نہیں لائے جا سکیں گے کیونکہ ان سے نہ تو بڑے پیمانے پر اچار بنایا جا سکے گا نہ ہی اس کا مربہ بن سکے گا کیونکہ اتنا وسیع نیٹ ورک نہ حکومت کے پاس ہے نہ نجی شعبے میں۔ آم کے کاشتکاروں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ اس حوالے سے مناسب اقدامات کیے جائیں تاکہ اس قسم کی قدرتی آفات کی صورت میں ہونے والے نقصان کا ازالہ کیا جا سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں