ایف بی آر کی دکانداروں اور چھوٹے تاجروں کے لیے نئی ٹیکس اسکیم

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے دکانداروں اور چھوٹے تاجروں کے لیے ایک نئی ٹیکس سہولت اسکیم تیار کر لی ہے، جس کا باضابطہ اعلان آئندہ وفاقی بجٹ 2026-27 میں کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق اس مجوزہ اسکیم پر مختلف کاروباری اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا سلسلہ جاری ہے، جس کا مقصد چھوٹے کاروباری طبقے کو ٹیکس نیٹ میں آسان طریقے سے شامل کرنا ہے۔ ابتدائی تجاویز کے مطابق سالانہ 2 کروڑ روپے تک کاروبار کرنے والے تاجر اس اسکیم کے اہل ہوں گے، جبکہ کم از کم تین سال سے کاروبار کرنے والے افراد بھی اس میں شامل ہو سکیں گے۔
اسکیم کے تحت رجسٹریشن آئیرس پورٹل، موبائل ایپ اور ٹیکس سہولت کاروں کے ذریعے کی جا سکے گی۔ شمولیت رضاکارانہ ہوگی، تاہم کاروباری افراد کے لیے درست مالی ریکارڈ رکھنا لازمی قرار دیا جا رہا ہے۔
مجوزہ پلان کے مطابق اہل تاجروں کے لیے نسبتاً آسان اور کم شرح ٹیکس متعارف کرانے پر غور کیا جا رہا ہے، جبکہ مقررہ حد سے زائد آمدن پر ہی اضافی ٹیکس لاگو ہوگا۔ اس اسکیم میں شامل کاروباری افراد کو عمومی طور پر آڈٹ سے استثنا حاصل ہوگا، تاہم غیر معمولی مالی سرگرمیوں یا آمدن میں تضاد کی صورت میں آڈٹ کیا جا سکے گا۔
تاجروں کو اپنی فروخت، خریداری اور اخراجات کا سادہ ریکارڈ محفوظ رکھنے کی ہدایت دی جائے گی، جبکہ بعض چھوٹے کاروباروں کو پی او ایس سسٹم اور ڈیجیٹل انٹیگریشن سے استثنا دینے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
فعال ٹیکس دہندگان کے لیے ایڈوانٹیجڈ ٹیکس لسٹ (ATL)، کم ودہولڈنگ ٹیکس اور بہتر مالی ساکھ جیسے فوائد تجویز کیے گئے ہیں، تاہم قواعد کی خلاف ورزی، آمدنی چھپانے یا ریٹرن جمع نہ کرانے کی صورت میں جرمانے عائد ہوں گے۔
اسکیم کا بنیادی مقصد معیشت کو دستاویزی بنانا، ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا اور رضاکارانہ ٹیکس ادائیگی کو فروغ دینا ہے۔ حکام کے مطابق بینک لین دین اور ظاہر شدہ آمدن کو کاروباری سرگرمیوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنا بھی لازمی تصور کیا جائے گا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں