ملتان( عامر ملک سے)ملتان شہر میں خطرناک نشہ’’آئس‘‘اب نئے نام’’جاگو‘‘کے تحت تیزی سے فروخت کیا جا رہا ہے جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں منشیات فروشوں کا راج قائم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بڑھتے ہوئے ناسور کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آ رہے ہیں، بلکہ بعض حلقے تو یہ الزام بھی عائد کر رہے ہیں کہ چند پولیس اہلکار خود اس گھناؤنے کاروبار میں ملوث ہیں۔ذرائع کے مطابق بلال چوک، پرانا شجاع آباد روڈ، شاہ شمس پارک کی بیک سائیڈ، بابا صفرا المعروف’’الگ‘‘، ایک نمبر چونگی، گلگشت، سیوڑا چوک اور دیگر کئی علاقے اس وقت منشیات فروشوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکے ہیں جہاں’’جاگو‘‘ نامی آئس سرعام فروخت ہو رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ منشیات فروش اس قدر بے خوف ہو چکے ہیں جیسے انہیں قانون کا کوئی ڈر ہی نہ ہو۔عوامی حلقوں میں یہ بات شدت سے زیر گردش ہے کہ جن علاقوں میں یہ مکروہ دھندہ جاری ہے وہاں کے متعلقہ تھانوں میں منشیات فروشوں نے اپنے’’موکل‘‘ رکھے ہوئےہیں، اور یہ ’’موکل‘‘ اتنے طاقتور اور تیز ہیں کہ پولیس بھی ان کے سامنے بے بس دکھائی دیتی ہے۔ شہری طنزیہ انداز میں کہتے ہیں کہ جیسے ہی کسی منشیات فروش کا نام متعلقہ تھانے تک پہنچتا ہے تو اچانک سب کچھ غائب ہو جاتا ہے، نہ چھاپہ، نہ گرفتاری اور نہ ہی کوئی مؤثر کارروائی۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ بعض پولیس اہلکاروں کی مبینہ سرپرستی کے بغیر اتنے بڑے پیمانے پر آئس جیسی خطرناک ڈرگ کی فروخت ممکن ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شہر کے نوجوان، طالب علم، مزدور طبقہ، کاروباری خاندانوں کے بچے اور یہاں تک کہ تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات بھی اس زہر کی لپیٹ میں آتے جا رہے ہیں۔حالیہ دنوں میں پیش آنے والے چار قتل کے واقعات میں سے دو قتل ایسے تھے جن کی بنیادی وجہ آئس کی لت کو قرار دیا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق نشے کے عادی افراد اپنے گھروں کا سامان اور برتن تک فروخت کرنے لگے تھے اور جب اہل خانہ نے روکنے کی کوشش کی تو دو خواتین کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ شہری حلقوں کے مطابق یہ واقعات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ آئس صرف ایک نشہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کو کھوکھلا کرنے والی خاموش موت بن چکی ہے۔انتہائی تشویشناک انکشاف یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ملتان کی ایک نجی یونیورسٹی میں بھی’’جاگو‘‘اور دیگر منشیات کا کاروبار عروج پر پہنچ چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق یونیورسٹی کے کچھ ہاسٹلز سے ماضی میں آئس اور دیگر نشہ آور اشیاء برآمد ہو چکی ہیں جبکہ بعض میل و فیمیل وارڈنز کے نام بھی سامنے آئے مگر حیران کن طور پر ان کے خلاف کوئی بڑی کارروائی عمل میں نہ لائی جا سکی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر تعلیمی اداروں تک یہ زہر پہنچ کیسے رہا ہے، اور اس کے پیچھے کون سے بااثر ہاتھ موجود ہیں؟شہری، سماجی اور مذہبی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب، سی پی او ملتان، آر پی او ملتان اور دیگر اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیاہے۔







