ملتان (سٹاف رپورٹر) ملتان کی ایک بڑی سرکاری یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی طویل غیر حاضریوں، مسلسل سفری مصروفیات اور انتظامی معاملات سے مبینہ لاتعلقی نے یونیورسٹی کے اندر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یونیورسٹی کے مختلف حلقوں، اساتذہ اور انتظامی افسران کی جانب سے اٹھائے جانے والے سوالات اب ایک سنگین انتظامی بحران کی شکل اختیار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مذکورہ وائس چانسلرجن کے تدریسی تجربے کے حوالے سے پہلے ہی مختلف حلقوں میں سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں، تعیناتی کے بعد سے زیادہ تر وقت مختلف دوروں، تقریبات اور بیرونِ شہر مصروفیات میں گزارتے رہے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ عیدالاضحیٰ سے تقریباً دس روز قبل ہی وہ یونیورسٹی سے غیر حاضر ہو گئے تھے اور عید کے بعد صرف دو دن یونیورسٹی آ کر دوبارہ اسلام آباد روانہ ہو گئے۔انتظامی ذرائع کے مطابق اب ان کی اگلی مصروفیت دوسرے صوبے کی یونیورسٹی میں ایک لیکچر ہے جہاں وہ ‘‘پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے مستقبل‘‘کے موضوع پر خطاب کریں گے۔ یونیورسٹی کے اندر اس دعوت پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ بعض اساتذہ کا کہنا ہے کہ جب اپنی ہی یونیورسٹی کے تعلیمی، انتظامی اور تحقیقی مسائل حل نہیں ہو پا رہے تو پھر قومی سطح پر اعلیٰ تعلیم کے مستقبل پر لیکچر دینا خود ایک بڑا سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔ یونیورسٹی کے بعض سینئر افسران کے مطابق وائس چانسلر کی مسلسل غیر موجودگی کے دوران یہ واضح نہیں ہوتا کہ ادارے کے انتظامی اختیارات کس کے پاس ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر وائس چانسلر کئی کئی دن ادارے میں موجود نہ ہوں تو روزمرہ فیصلے، ہنگامی امور اور پالیسی معاملات کون دیکھتا ہے؟ اس حوالے سے یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے کبھی کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آیا۔ مزید حیران کن بات یہ بتائی جاتی ہے کہ دو سال گزر جانے کے باوجود یونیورسٹی میں تاحال مستقل پرو وائس چانسلر تعینات نہیں کیا گیا۔ سینئر پروفیسرز کے مطابق نہ صرف یہ کہ اس اہم عہدے پر تقرری عمل میں نہیں لائی گئی بلکہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو بھی باضابطہ طور پر کوئی تجویز نہیں بھیجی گئی۔ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ کسی بھی بڑی یونیورسٹی میں پرو وائس چانسلر کا عہدہ انتظامی تسلسل اور پالیسی استحکام کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ کئی ڈینز اور ڈائریکٹرز نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ بعض اوقات ایڈیشنل چارج رکھنے والے افسران ادارے کو اس سے زیادہ وقت دیتے ہیں جتنا مستقل وائس چانسلر دے رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ یونیورسٹی جیسے بڑے ادارے کو جزوقتی انداز میں نہیں چلایا جا سکتا اور مستقل قیادت کی موجودگی ناگزیر ہوتی ہے۔تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی سرکاری یونیورسٹی کا سربراہ مسلسل دوروں، سیمینارز اور سفری سرگرمیوں میں مصروف رہے جبکہ ادارے کے اندر انتظامی خلا پیدا ہو جائے تو اس کے اثرات براہ راست تدریس، تحقیق، مالیاتی نظم و نسق اور طلبہ کے مفادات پر مرتب ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یونیورسٹی کی اولین ترجیح ادارے کے اندرونی مسائل کا حل ہونا چاہیے یا بیرونی دورے اور تقریبات؟ کیا وائس چانسلر کی طویل غیر حاضریوں کے دوران انتظامی اختیارات کے استعمال کا کوئی واضح نظام موجود ہے؟ اور آخر دو سال گزرنے کے باوجود پرو وائس چانسلر کی تعیناتی کیوں نہیں ہو سکی؟







