ملتان (سٹاف رپورٹر) ایک طرف پاکستان اپنے تین دریا بھارت کو دینے کے بعد شدید قسم کے آبی بحران کا شکار ہے اور دوسری طرف ہماری حکومت کی عوام مسائل اور کاشتکاروں کے مسائل سے دلچسپی کا یہ عالم ہے کہ انڈس واٹر کمیشن کے چیئرمین جیسی اہم ترین اسامی پر نو ماہ سے کسی بھی شخص کی تقرری نہیں کی گئی اور یہ عہدہ یکم ستمبر 2025 سے خالی پڑا ہے۔ گزشتہ 65 سال کے دوران پاکستان میں بننے والی ہر حکومت کے نزدیک دریائی پانی کا مسئلہ کبھی بھی اہم نہیں رہا اور پاکستان نے کبھی بھی بھرپور انداز میں اپنے آبی حق کے حصول کے لیے کسی عالمی فورم پر بھرپور آواز بلند نہیں کی۔ اس سے قبل بھی حکومت کی دانستہ کوتاہی کا یہ عالم تھا کہ 1993 سے لے کر 2010 تک لگاتار 17 سال سید جماعت علی شاہ چیئرمین انڈس واٹر کمشن کے عہدے پر تعینات رہے اور اس دوران پاکستان میں اقتدار مسلم لیگ نون ،پیپلز پارٹی اور جنرل مشرف کے پاس رہا مگر کسی کے لیے بھی اس اہم ترین ایشو کی کوئی اہمیت نہ تھی۔ سید جماعت علی شاہ کے دور میں بھارت نے درجنوں ڈیم عالمی معاہدوں کے خلاف ورزی کرتے ہوئے بنا ڈالے۔ طریقہ کار کے مطابق بھارت کو اگر اپنے علاقے میں ان دریاؤں جن کا پانی پاکستان کو ملتا ہےکسی بھی قسم کا کوئی ریزروائر یا ڈیم بنانا ہو اسے حکومت پاکستان کو خط لکھ کر اجازت لینی اور مطلع کرنا پڑتا ہے اور حکومت پاکستان کا انڈس واٹر کمیشن تین ماہ کے اندر اندر جواب دینے کا پابند ہوتا ہے اور اگر تین ماہ میں پاکستان کی طرف سے کوئی جواب نہ دیا جائے تو عالمی قوانین کے مطابق بھارت مذکورہ پانی کا ذخیرہ کرنے کے لیے ڈیم یا ہیڈ ورکس بنا سکتا ہے۔ جتنا عرصہ بھی جماعت علی شاہ چیئرمین انڈس واٹر کمیشن رہے بھارت میں درجنوں غیر قانونی آبی ذخائر بنے اور ان کے بنانے سے قبل پاکستان کو خط لکھ دیا جاتا مگر پاکستان کی طرف سے تین ماہ کے عرصے میں جواب ہی نہ دیا جاتا جس پر بھارت کو قانونی طور پر یہ حق حاصل ہو جاتا کہ وہ ڈیم بنا کر پانی ذخیرہ کر سکتا ہے کیونکہ اس نے مطلوبہ شرط پوری کر دی ہے۔ یہ مجرمانہ غفلت جو ملک دشمنی کے زمرے میں بھی رکھی جا سکتی ہےجو پاکستان کے واٹر کمیشن نے کئی مرتبہ برتی۔ موجودہ صورتحال میں جبکہ پاکستان کی زراعت کا تمام تر انحصار دریائی پانی پر ہے، یکم ستمبر 2025 سے چیئرمین انڈس واٹر کمیشن کا عہدہ سرے سے خالی ہے اور اس پر عدالت میں رٹ بھی دائر ہوئی اور عدالت کی طرف سے حکومت سے جواب بھی مانگا گیا مگر کئی ہفتے گزرنے کے باوجود حکومت نے جواب ہی نہیں دیا۔ توجہ طلب امر یہ ہے کہ پاکستان میں سید جماعت علی شاہ مسلسل 17 سال چیئرمین انڈس واٹر کمیشن رہے اور اس دوران انڈیا میں سات کمشنر تبدیل ہوئے۔ سید جماعت علی شاہ کی پالیسیوں پر کئی سنگین قسم کے اعتراضات اٹھائے گئے مگر حکومت نے کبھی بھی ان اعتراضات کا کوئی نوٹس نہیں لیا تھا۔ ایک طرف عالمی ادارے یہ تنبیہ کر رہے ہیں کہ پاکستان کا علاقہ شدید قسم کے آبی قحط کا شکار ہونے جا رہا ہے دوسری جانب پاکستان کی کسی سیاسی جماعت یا کسی بھی با اختیار کو اس پر توجہ دینے کا موقع ہی نہیں مل رہا۔







