ملتان: فنکاروں سے پھر ڈکیتی، نوجوان قتل، 3 رقاصائیں زخمی، پانچ گینگز سرگرم

ملتان (رپورٹ: شاہد صدیق)مخدوم رشید میں شادی سے واپسی پرفنکاروں کے قتل اور لوٹ مار کی کوشش، فنکاروں میں خوف کی لہر ،علاقے کی تاریک شاہراہوں پر ایک بار پھر ڈاکوؤں کے مہلک عزائم نے ایک معصوم جان لے لی۔ شادی کی تقریب سے واپس آنے والی فنکاروں کی گاڑی کو نامعلوم مسلح افراد نے ڈکیتی کی نیت سے گھیر لیا۔ مزاحمت پر پیش آنے والے خوفناک حادثے میں 17 سالہ نوجوان محمد ابرار موقع پر ہی دم توڑ گیا جبکہ تین رقاصائیں شدید زخمی ہوگئیں۔ یہ واقعہ نہ صرف ایک سانحہ ہے بلکہ اس علاقے میں بڑھتی ہوئی جرائم کی تاریک حقیقت کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔عینی شاہدین اور پولیس ذرائع کے مطابق محمد ابرار اور تینوں رقاصائیں ایک مقامی شادی میں پرفارم کرنے کے بعد گاڑی میں سوار ہو کر واپس لوٹ رہے تھے۔ راستے میں ایک موڑ پر پانچ سے سات ڈاکوؤں نے ان کی گاڑی کا تعاقب شروع کر دیا۔ڈاکوؤں نے پہلے گاڑی کو اوور ٹیک کرنے کی کوشش کی پھر اشاروں اور دھمکی آمیز آوازوں کے ذریعے گاڑی روکنے کا حکم دیا۔ تاہم ڈرائیور نے جان بچانے کی غرض سے گاڑی تیز کر دی۔ جواب میں ڈاکوؤں نے گاڑی کو زور دار ٹکر ماری جس سے وہ بے قابو ہو کر سڑک کنارے ایک درخت سے جا ٹکرائی۔حادثہ اتنا شدید تھا کہ محمد ابرار کی چھاتی اور سر پر شدید چوٹیں آئیں اور اس نے موقع پر ہی دم توڑ دیا۔ تینوں رقاصاؤں کی حالت تشویشناک ہے جن میں سے ایک کی ٹانگ اور دو کے بازو اور کمر میں فریکچر کی اطلاع ہے۔پولیس نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور زخمیوں کو قریبی نشتر ہسپتال منتقل کیا،صرف ایک واقعہ نہیںیہ ایک سلسلہ ہے۔ذرائع کے مطابق ملتان سمیت مخدوم رشید اور گردونواح میں اوباشوں کے پانچ سے زیادہ مختلف گروہ سرگرم ہیں جنہوں نے شادیوں کے فنکشنز کے بعد واپس آنے والی رقاصاؤں، گلوکاروں اور پروموٹرز کو لوٹنا ایک منظم کاروبار بنا لیا ہے۔ماضی میں ایسے مزید ہولناک واقعات پیش آ چکے ہیں جن میں لاہو رمیں2024میں ڈاکوؤں نے فائرنگ کر کے دو رقاصاؤں کو زخمی کیا اور تین لاکھ روپے لوٹ لیے تھے۔ متاثرہ خواتین نے خوف کی وجہ سے رپورٹ درج نہیں کروائی۔فیصل آباد میں2023 میں اسی طرح کی واردات میں ایک رقاصہ گولی لگنے سے جاں بحق اور دو زخمی ہوئی تھیں۔ پولیس نے مقدمہ درج کیا لیکن اب تک کوئی بڑی گرفتاری نہ ہو سکی۔سرگودھا میں2022میںایک پروموٹر اور تین رقاصاؤں کو اغوا کر کے جنگل میں لے جایا گیاجہاں ان کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد تمام قیمتی اشیا اور نقدی لوٹ لی گئی تھی۔ایک اہم انکشاف یہ ہے کہ اکثر متاثرہ فنکار اور پروموٹر پولیس کو اطلاع نہیں دیتے کیونکہ انہیں خوف ہوتا ہے کہ پولیس خود انہیں ہراساں کرے گی یا معاملہ دبا دیا جائے گا۔ اس خاموشی نے مجرموں کے حوصلے اتنی بلندی پر پہنچا دیے ہیں کہ وہ دن دہاڑے وارداتیں کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔تھانہ مخدوم رشید کے ایک افسرنےبتایا کہ ملزمان کی تلاش کے لیے دو ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں اور علاقے میں اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ڈاکوؤں نے گاڑی کو روکنے کی کوشش کی اور جب ڈرائیور نے نہ روکا تو انہوں نے گاڑی کو ٹکر مار کر حادثہ پیدا کیا۔تاہم عینی شاہدین میں سے ایک مقامی دکاندار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پولیس والے خود 20 منٹ بعد پہنچے تھے اور انہوں نے زخمیوں کو سہارا دینے کی بجائے پہلے گاڑی کا معائنہ کیا اور بعد میں ایمبولینس بلوائی۔ اس کے علاوہ کچھ شواہد کے مطابق ڈاکوؤں نے گاڑی کو ٹکر دینے کے ساتھ ساتھ ہوا میں فائرنگ بھی کی، پولیس نے نامعلوم ملزمان کے خلاف دفتر 392، 397 پی پی سی کے تحت ایف آئی آر درج کر لی ہے لیکن اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی۔واقعہ کے بعد علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ فنکاروں کی مختلف تنظیموں نے سی ٹی ڈی (کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ) سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان گروہوں کے طریقہ کار میں ڈرون جیسی جدید ٹیکنالوجی اور منصوبہ بندی شامل ہے جو عام ڈاکوؤں سے کہیں بڑھ کر ہے۔ایک معروف لوک فنکارہ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہاہم جب شادیوں میں پرفارم کرتے ہیں تو ہمیں پتا ہوتا ہے کہ واپسی پر موت ہمارا پیچھا کر رہی ہے۔ کوئی ہماری حفاظت نہیں کرتا۔ ابرار کی موت نے ہمیں جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اب حکومت کو چاہیے کہ وہ ہمیں شہریوں کی طرح تحفظ دے، ورنہ ہم احتجاج کریں گے۔ذرائع کے مطابق واقعے کی خبر پھیلتے ہی وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس کا نوٹس لیتے ہوئے آر پی او ملتان کو رپورٹ طلب کر لی ہے۔ آئی جی پولیس پنجاب نے کہا ہے کہ ملزمان کو کیسے بھی جلد گرفتار کیا جائے گا اور کوئی بھی مجرم قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکے گا۔تاہم شہریوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی ایسے ہی وعدے کیے گئے لیکن حقیقت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں