پاکستان میں کاروباری اعتماد شدید متاثر، 80 فیصد ادارے نئی سرمایہ کاری سے گریزاں

کراچی: پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے، جبکہ 70 سے 80 فیصد اداروں نے نئی سرمایہ کاری کے فیصلے مؤخر کر دیے ہیں یا ان پر نظرثانی شروع کر دی ہے۔
اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (OICCI) کے تازہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کے مطابق ملک میں مجموعی کاروباری اعتماد میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2026 کی دوسری سہ ماہی کے دوران کیے گئے 29ویں سروے میں کاروباری اعتماد 9 فیصد پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 13 فیصد رہ گیا، جو اس سے قبل 22 فیصد تھا۔
سروے میں بتایا گیا ہے کہ سرمایہ کاری میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، مہنگائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں، سپلائی چین کے مسائل، پالیسیوں میں غیر یقینی صورتحال اور معاشی سست روی شامل ہیں۔
کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات نے سرمایہ کاری کے فیصلوں، پیداواری لاگت، خام مال کی دستیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو شدید متاثر کیا ہے۔
شعبہ جاتی لحاظ سے خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی، جبکہ مینوفیکچرنگ میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے برعکس ریٹیل سیکٹر میں معمولی بہتری سامنے آئی ہے۔
سرمایہ کاری کے رجحان میں بھی واضح کمزوری دیکھی گئی ہے، نیو انویسٹمنٹ انڈیکس کم ہو کر صرف 2 فیصد رہ گیا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ادارے نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔
سروے کے مطابق بیشتر کمپنیاں سپلائی چین کے خطرات کم کرنے اور متبادل تجارتی راستوں پر انحصار بڑھانے کی حکمت عملی اپنا رہی ہیں۔ OICCI کے سیکریٹری جنرل کے مطابق پاکستان کا کاروباری ماحول اس وقت شدید غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے، جس پر قابو پانے کے لیے پالیسیوں کا تسلسل، لاگت میں کمی اور توانائی کے شعبے میں ریلیف ناگزیر ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ آئندہ چھ ماہ کے دوران معاشی حالات مزید خراب ہونے کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں، جبکہ مہنگائی، ٹیکسز اور کرنسی کے اتار چڑھاؤ کو سب سے بڑے چیلنجز قرار دیا گیا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں