گھریلو ملازمہ مبینہ گینگ ریپ کے بعد اسقاط حمل کے دوران جاں بحق

لاہور: لاہور میں مبینہ اجتماعی زیادتی اور اسقاط حمل کے بعد گھریلو ملازمہ کی ہلاکت کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ مقدمے میں دفعہ 302 شامل کیے جانے کے بعد پولیس نے متاثرہ لڑکی کے مالکان کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق انتقال سے قبل ریکارڈ کروائے گئے ویڈیو بیان میں متاثرہ لڑکی نے بتایا تھا کہ نومبر 2025 میں اسے حاملہ ہونے کا علم ہوا، جس کے بعد اس نے اپنے والدین کو بھی اس بارے میں آگاہ کیا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کے تحریری اور ویڈیو بیانات کی بنیاد پر اجتماعی زیادتی کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، جبکہ بعد ازاں کیس میں قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق مقتولہ کے والد پوسٹ مارٹم کرانے پر آمادہ نہیں تھے، تاہم قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے پوسٹ مارٹم کروایا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حتمی رپورٹ موصول ہونے کے بعد تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔
کیس کی ازسرنو تحقیقات کے لیے مالکان کو نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں۔ قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد تفتیش جینڈر سیل سے منتقل کر کے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق متاثرہ لڑکی کے عدالتی بیان کے بعد مالکان کو زیادتی کے الزامات سے بے گناہ قرار دیا گیا تھا، تاہم نئے شواہد اور قانونی پیش رفت کے بعد دوبارہ تحقیقات کا آغاز کیا جا رہا ہے۔
مقدمے میں نامزد ایک ملزم، ڈرائیور حسن، پہلے ہی گرفتار ہو چکا ہے اور اسے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا جا چکا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ لڑکی نے وفات سے قبل دفعہ 164 کے تحت اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا، تاہم اس بیان میں اس نے مالکن کے بیٹے کا نام بطور ملزم شامل نہیں کیا تھا۔
تحقیقات کے مطابق اسقاط حمل کے تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد فیصل آباد میں لڑکی کی طبیعت بگڑ گئی، جس کے بعد اسے علاج کے لیے سروسز اسپتال لاہور منتقل کیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ موت کی اصل وجوہات کا تعین کرے گی، جبکہ اسقاط حمل کے لیے آپریشن کرنے والے نجی اسپتال کے خلاف بھی شواہد ملنے پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
حکام کے مطابق کیس کی ہر پہلو سے تحقیقات کی جائیں گی اور اگر جینڈر سیل کی جانب سے کسی قسم کی غفلت ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف محکمانہ کارروائی بھی کی جائے گی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں