ملتان (وقائع نگار)نشتر ہسپتال ملتان میں مبینہ غفلت حادثے میں جاں بحق نوجوان کی لاش 4 سے5 گھنٹے تالا بند کمرے میں رکھی گئی۔ملتان کے قریب ایک دل دہلا دینے والا ٹریفک حادثہ پیش آیا جس میں تحصیل جہانیاں کا رہائشی نوجوان محمد آفتاب موقع پر ہی جاں بحق ہوگیاجبکہ اس کی والدہ شدید زخمی ہوئیں۔ریسکیو 1122 کے مطابق موٹر سائیکل سوار محمد آفتاب اور ان کی والدہ ٹریکٹر ٹرالی سے ٹکرا گئے۔ نوجوان کی لاش اور زخمی خاتون کو قانونی کارروائی کے لیے نشتر ہسپتال ملتان منتقل کیا گیا۔ تاہم جاں بحق نوجوان کے ورثا نے ہسپتال انتظامیہ کے خلاف شدید غفلت کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ لاش کو پوسٹ مارٹم روم میں رکھ کر تالا لگا دیا گیا اور متعلقہ ڈاکٹرز و عملہ غائب ہوگئے۔ورثا جن میں والد الطاف حسین بھی شامل ہیں، کا کہنا ہے کہ سخت گرمی میں وہ کئی گھنٹے لاش کے ساتھ دربدر رہے۔ انہوں نے بار بار رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی ذمہ دار شخص دستیاب نہ ہوا۔ تقریباً چار سے پانچ گھنٹے کی تاخیر کے بعد ذاتی رابطوں اور سفارش کے ذریعے ڈاکٹرز کو بلایا جا سکا جس کے بعد پوسٹ مارٹم کی کارروائی شروع ہوئی۔متاثرہ خاندان نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ غم کے اس لمحے میں انہیں اضافی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ خاندان نے وزیراعلیٰ پنجاب، نشتر ہسپتال کے اعلیٰ افسران، کمشنر ملتان اور محکمہ صحت جنوبی پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کروائی جائیں اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں کسی اور خاندان کو ایسی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔یہ واقعہ نشتر ہسپتال میں سہولیات اور انسانی ہمدردی کی کمی پر عوامی سطح پر بڑھتے ہوئے غم و غصے کو مزید ہوا دے رہا ہے۔ عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ صوبائی حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے لے اور ہسپتال میں فوری اصلاحات لائی جائیں۔







