نتکانی،وہاڑی،لڈن (نامہ نگار،نمائندہ قوم، نمائندہ خصوصی)قتل یاخودکشی؟ نتکانی میں ڈاکٹر،لڈن میں حافظ قرآن نوجوان کی درخت سے لٹکی لاش برآمدہوئی۔علاقے میں خوف وہراس پھیل گیا۔تفصیل کے مطابق نتکانی میں یکم جون کی صبح پانچ بجے نتکانی کے ڈاکٹر عصمت اللہ عرف ڈاکٹر غلام شبیر صبح فجرکی نماز کے بعد واک کے لئے نکلے کچھ دیر بعد لوگوں نے شہر کے ملحق عصمت اللہ خان کے اپنے رقبے کے مغربی کنارے پر ان کے اپنے رقبے میں موجود ایک درخت پرانہیں مردہ حالت میں رسی سے لٹکے ہوئے دیکھا ۔ ورثا کے مطابق ہم نے تھانہ وہوا بار بار فون کئے لیکن کسی پولیس آفیسرنے اڑھائی گھنٹے تک موقع پر پہنچنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جس پر شدید گرمی اور میت کی بے حرمتی کے پیش نظر میت کو چارپائی پر اُتار کر گھر لے گئے ۔ ڈاکٹرعصمت اللہ عرف غلام شبیر کی اس مشکوک وفات پر پورے علاقے میں سوگ کی فضا قائم ہوگئی ہے۔ یاد رہے نتکانی کی تاریخ میں اس قسم کا پہلا واقعہ ہے۔علاوہ ازیںوہاڑی سےنمائندہ قوم اورلڈن سے نمائندہ خصوصی کےمطابق گزشتہ روز تھانہ لڈن کی حدود میں ایک انتہائی افسوسناک اور پراسرار واقعہ پیش آیا جہاں نوجوان حافظِ قرآن حافظ جنید ولد محمد اشرف رحمانی کی لاش درخت سے لٹکی ہوئی حالت میں برآمد ہوئی۔ واقعے کے بعد پورے علاقے میں سوگ کی فضا قائم ہے جبکہ اہلِ خانہ غم سے نڈھال ہیں اور واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔واضح حافظ جنید گزشتہ روز اپنے ایک دوست سے ملاقات کے لیے موضع مصطفیٰ آباد (حاجی واہ) گئے تھے۔ رات وہاں قیام کے بعد صبح گھر واپسی کے لیے روانہ ہوئے۔ اہلِ خانہ کے مطابق روانگی کے بعد ان کی اپنے والد سے ٹیلیفون پر بات ہوئی جس میں انہوں نے بتایا کہ وہ اڈا رتہ ٹبہ پہنچ چکے ہیں اور جلد گھر آ جائیں گے۔ تاہم چند گھنٹوں بعد ان کی لاش ایک درخت سے لٹکی ہوئی حالت میں ملنے کی اطلاع موصول ہوئی۔ حافظ جنید کے والد محمد اشرف اور دیگر اہلِ خانہ نے واقعے کو مشکوک قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کا بیٹا حافظِ قرآن تھا، خوش اخلاق اور مذہبی رجحان رکھنے والا نوجوان تھا، اس لیے وہ خودکشی جیسا قدم نہیں اٹھا سکتا۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں شبہ ہے کہ ان کے بیٹے کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا ہے، جس کی مکمل اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈی ایس پی سرکل صدر جمشید اکرم، ایس ایچ او تھانہ لڈن محمد امین جھنڈیر اور دیگر پولیس افسران موقع پر پہنچ گئے۔ پولیس نے جائے وقوعہ کا تفصیلی جائزہ لیا جبکہ فرانزک ٹیم نے بھی موقع سے مختلف شواہد اکٹھے کیے۔ پولیس نے لاش کو اپنی تحویل میں لے کر قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے بعد ورثا کے حوالے کر دیا۔ بعد ازاں مرحوم کو آہوں اور سسکیوں کے درمیان سپردِ خاک کر دیا گیا ۔حافظ جنید کے والدین نے ڈی پی او وہاڑی سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کر کے ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور ان کے بیٹے کو انصاف فراہم کیا جائے۔







