ملتان (سٹاف رپورٹر) بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں مبینہ کرپشن اور انتظامی مافیا مضبوط ہوگیا۔ طلبہ کی شکایات نظر اندازکی جانےلگیں۔ بہا الدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں کئی سال سے ایک مبینہ ’’انتظامی مافیا‘‘کے خلاف طلبا و طالبات کی جانب سے متعدد شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ الزام ہے کہ رجسٹرار آفس، ڈگری سیل، اکاؤنٹس برانچ اور دیگر کلیدی شعبوں میں کچھ ملازمین 20 سے 25 سال سے ایک ہی عہدوں پر براجمان ہیں جس کی وجہ سے یونیورسٹی کے مالی معاملات اور طلبہ کے امور متاثر ہو رہے ہیں۔طلبہ کا کہنا ہے کہ محسن (کمپیوٹر آپریٹر)، ارشد میتلا (سمسٹر سسٹم کنٹرولر آفس)، ایم ارشد قریشی (ڈگری برانچ)، سہیل پرنایہ (اکاؤنٹ آفس)، محمد صفدر (ایڈمن آفیسر رجسٹریشن برانچ)، محمد امجد (ایڈمن آفیسر ڈگری سیل)، وجاہت منگانہ (ایڈمن آفیسر سکریسی برانچ)، فرحان قریشی (اکاؤنٹ برانچ)، رانا عرفان، جام منیر، محمد عارف (ڈگری سیل)، محمد ہاشم (رجسٹریشن برانچ)، احمد فاروقی (سکریسی برانچ)، زاہد (پی ڈی ونگ) اور ڈپٹی کنٹرولر رانا جنگ شیر جیسے ملازمین طویل عرصے سے انہی سیٹوں پر فائز ہیں۔طلبہ کے مطابق ان ملازمین کے خلاف بار بار تحریری اور زبانی شکایات کی گئیں مگر رجسٹرار آفس انہیں وائس چانسلر تک پہنچنے نہیں دیتا۔ الزام لگایا جا رہا ہے کہ ان ملازمین کو ایمپلائز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی پشت پناہی حاصل ہے جس کی وجہ سے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو پاتی۔ نتیجتاً یونیورسٹی میں ڈگریوں میں تاخیر، فیسوں کے معاملات، رجسٹریشن کے مسائل اور دیگر بدعنوانیوں کے الزامات عام ہیں۔ایک طالب علم نے بتایاکہ ہمارے مسائل حل نہیں ہوتے۔ ایک ہی شخص 20 سال سے ڈگری سیل پر بیٹھا ہے، کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ شکایت کرتے ہیں تو فائل غائب ہو جاتی ہے یا کہا جاتا ہے کہ اوپر سے منظوری نہیں۔ تاہم ماضی میں زکریا یونیورسٹی ملتان میں اعلیٰ سطح کے افسران اور سابق وائس چانسلرز کے خلاف کرپشن کے متعدد کیسز سامنے آ چکے ہیں جن میں NAB اور ACE کی جانب سے تفتیش بھی ہوئی تھی۔ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ ایک ہی عہدے پر طویل مدت تک ملازمین کی تعیناتی سے بدعنوانی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور ادارے کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ ان کا مشورہ ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ کو شفاف ٹرانسفر پالیسی اپنانا چاہیے اور تمام شکایات کی آزادانہ انکوائری کرانی چاہیے۔طلبہ نے متعلقہ حکام، گورنر پنجاب اور اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس مبینہ مافیا کی تحقیقات کی جائیں تاکہ یونیورسٹی کا تعلیمی ماحول بہتر ہو سکے اور طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کا تعین ہو۔







