نشتر ہسپتال ملتان میں چوری کلچر عروج پر، سکیورٹی گارڈز پٹرول’’ پینے‘‘ میں ملوث

ملتان (وقائع نگار)نشتر ہسپتال ملتان میں چوری کا کلچر عروج پر،سکیورٹی گارڈز اب موٹر سائیکلوں سے پٹرول چوری کرنے لگے۔نشتر ہسپتال ملتان جو صوبہ پنجاب کے اہم ترین سرکاری ہسپتالوں میں شمار ہوتا ہے، اب چوری کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ سرکاری ادویات، پنکھے، ایئر کنڈیشنرز اور دیگر قیمتی سامان کی مسلسل چوری کے بعد اب اس چوری کے کلچر نے اتنی خطرناک شکل اختیار کر لی ہے کہ ہسپتال کی پارکنگ میں تعینات سکیورٹی گارڈز خود موٹر سائیکلوں سے پٹرول چوری کر رہے ہیں۔روزنامہ قوم کو ملنے والی معتبر اطلاعات کے مطابق، نشتر ہسپتال کی پارکنگ میں روزانہ سینکڑوں لیٹر پٹرول چوری ہو رہا ہے۔ مریضوں اور ملازمین کی موٹر سائیکلوں سے پٹرول نکالنے کا سلسلہ دن دہاڑے جاری ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سکیورٹی گارڈز رات کے وقت یا کم نگرانی والے اوقات میں پائپوں کے ذریعے پٹرول نکالتے ہیں اور اسے بیچ کر کمائی کرتے ہیں۔ایک متاثرہ شخص نے بتایا کہ میں اپنی موٹر سائیکل پارکنگ میں کھڑی کر کے ایمرجنسی میں آیا تھا۔ واپس آ کر دیکھا تو ٹینک خالی تھا۔ جب سیکورٹی سے پوچھا تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ اب یہ روزمرہ کا معمول بن چکا ہے۔اس سے قبل نشتر ہسپتال میں ادویات کی بڑی مقدار، پنکھے، ایئر کنڈیشنرز، کمپیوٹرز اور دیگر قیمتی سامان کی چوری کی متعدد شکایات سامنے آ چکی ہیں۔ انتظامیہ کی خاموشی اور عدم توجہ نے چوروں کے حوصلے بڑھا دیے ہیں۔ اب سکیورٹی کا فرض نبھانے والے خود چور بن گئے ہیں جو صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی گارڈز کی تنخواہوں میں تاخیر اور دیگر مسائل بھی اس بدعنوانی کا ایک سبب ہو سکتے ہیں لیکن یہ کسی صورت جواز نہیں بن سکتا۔ہسپتال آنے والے مریضوں اور لواحقین میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں