ملتان (سٹاف رپورٹر) صوبائی وزیر خوراک بلال یاسین کی طرف سے اصولی اختلاف کے باوجود محکمہ خوراک کو ختم کئے جانے اور گندم کی ذخیرہ اندوزی 12 من پسند نجی کمپنیوں کو دیئےجانے کے حوالے سے حیران کن انکشافات ہوئے ہیں اور مستقبل میں یہ فیصلہ حکومت کے لیے مسائل کا باعث بن جائے گا۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ محکمہ خوراک کے صوبہ بھر میں موجود گودام ان 12 نجی کمپنیوں کو اپنی گندم کو سٹاک کرنے کے لیے عطیہ کر دیئے گئے ہیں اور حیران کن امر یہ بھی ہے کہ حکومت پنجاب 6 ارب روپے کا باردانہ بھی ان نجی کمپنیوں کو گندم سٹاک کرنے کے لیے خرید کر دے چکی ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ حکومت پنجاب کی سخت ترین ہدایات کے باوجود مختلف اضلاع کی انتظامیہ پرائیویٹ کمپنیوں کے لیے گندم جمع کرنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہی اور دوسری طرف غلہ منڈیوں میں بھی گندم کا سرے سے کوئی وجود نہیں کیونکہ جب حکومت جان بوجھ کر تاخیری حربے استعمال کر رہی تھی تو کراچی سے تعلق رکھنے والی دو بڑی پارٹیوں نے محض دس دن کے اندر اندر ہزاروں ٹرک گندم پنجاب سے باہر بھجوا دی اور جب حکومت کو ہوش آیا تب تک گندم کی پنجاب میں شارٹیج ہو چکی تھی۔ پاکستان کی 77 سالہ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ حکومت پنجاب گندم کی فصل آنے کے محض 45 دن بعد ہی گندم امپورٹ کرنے کا فیصلہ کرنے جا رہی ہے اس سے بڑی سیکرٹری زراعت اور محکمہ خوراک کے افسران کی انتظامی ناکامی اور کیا ہو سکتی ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ خانیوال، وہاڑی، لودھراں اور بہاولپور میں 3500 روپے سرکاری قیمت والی گندم 4 ہزار روپے میں بھی دستیاب نہیں ہے۔ دوسری طرف محکمہ خوراک نجی ذخیرہ اندوز کمپنیوں کے لیے یہ بھی سہولت کاری کر رہا ہے کہ اول تو کاشتکار کی گندم زبردستی پکڑی جاتی ہے اوپر سے اس پر چار کلو فی من کٹوتی کی جا رہی ہے۔ اس طرح کاشتکار کو ایک من کے بجائے 36 کلو گندم کے پیسے ملتے ہیں جو کہ 3150 روپے بنتے ہیں اور یہیں سے نجی کمپنیاں 360 روپے کا فراڈ کر رہی ہیں مگر انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں بلکہ حکومت پنجاب ان نجی سٹاکسٹوں کی مکمل سہولت کاری کر رہی ہے جس سے کاشتکار اور زمیندار حضرات اس شک کا اظہار کر رہے ہیں کہ شاید یہ 12 نجی کمپنیوں کوگندم کی خریداری کی منظوری دی گئی ہے، یہ بھی کسی طاقت اور سیاسی گھرانے کے کاروباری مفادات ہوں گے تو چھ ارب روپے مالیت کا باردانہ بھی نجی کمپنیوں کو گفٹ کر رہی ہے اور سرکاری گودام بھی انہیں بغیر کرایہ لئے دے دیئےگئے ہیںیہ عوام دشمن فیصلے بہت سے سوالات پیدا کر رہے ہیں۔ تازہ ترین معلومات کے مطابق رحیم یار خان میں گندم کی قیمت00 42 فی من تک پہنچ چکی ہے جبکہ کراچی کا ریٹ00 44 سے لے کر 4450 روپے فی من تک جا چکا ہے۔ پاکستان کی انتظامی تاریخ میں یہ دوسری مرتبہ ہو رہا ہے ۔سرکاری مشینری نجی کمپنیوں کے لیے کاشتکار کی گندم ضبط کر رہی ہے۔ اس سے قبل 90 کی دہائی میں سرکاری مشینری نے اسی طرح سے کاشت کاروں سے زبردستی گنا چھین کر شوگر ملوں کو فراہم کیا تھا اور کاشتکار چیختے رہ گئے تھے۔ پنجاب کی تاریخ میں یہ دوسری مرتبہ ایسا کیا جا رہا ہے اور حیران کن طور پر دونوں ہی مرتبہ پنجاب میں مسلم لیگ کی حکومت ہے۔ صورتحال اس قدر گمبھیر ہو چکی ہے کہ کاشتکاروں کو اپنے گھریلو استعمال کی گندم ذخیرہ کرنے کے بھی لالے پڑے ہوئے ہیں۔







