ممبئی: بالی ووڈ اداکارہ جیکولین فرنینڈس کی مشکلات میں ایک بار پھر اضافہ ہو گیا ہے، کیونکہ 200 کروڑ بھارتی روپے کے مبینہ منی لانڈرنگ کیس میں عدالت نے ان سمیت دیگر ملزمان کے خلاف الزامات عائد کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
یہ مقدمہ مبینہ طور پر معروف ٹھگ سکیش چندر شیکھر اور اس کے بھتہ خوری نیٹ ورک سے منسلک ہے، جس میں جیکولین فرنینڈس کا نام طویل عرصے سے زیرِ بحث رہا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے ادتی سنگھ سے مبینہ طور پر وصول کیے گئے 200 کروڑ روپے کے بھتہ خوری کیس سے جڑے منی لانڈرنگ مقدمے میں سکیش چندر شیکھر، ان کی اہلیہ لینا ماریا پال، جیکولین فرنینڈس اور دیگر افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
ایڈیشنل سیشن جج پرشانت شرما نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی ریکارڈ اور شواہد کا جائزہ لینے کے بعد بظاہر یہ واضح ہوتا ہے کہ تمام نامزد ملزمان کے خلاف کارروائی کے لیے کافی مواد موجود ہے۔
عدالت نے انسدادِ منی لانڈرنگ قانون (PMLA) کی دفعہ 3 کے تحت الزامات عائد کرنے کی ہدایت دی ہے، جو دفعہ 4 کے تحت قابلِ سزا ہیں۔ اس کیس میں تمام ملزمان کو 3 جون کو عدالت میں پیش ہونے کے لیے طلب کیا گیا ہے۔
یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ جیکولین فرنینڈس کا نام کئی برسوں سے اس ہائی پروفائل کیس سے جڑا ہوا ہے۔ اگرچہ انہیں مکوکا کیس میں براہِ راست ملزم قرار نہیں دیا گیا، تاہم انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے اپنی تحقیقات میں ان پر سوالات اٹھائے ہیں۔
ای ڈی کے مطابق جیکولین فرنینڈس نے مبینہ طور پر وہ مہنگے تحائف وصول کیے جو سکیش چندر شیکھر کی غیر قانونی آمدن اور بھتہ خوری کے ذریعے حاصل کیے گئے پیسوں سے خریدے گئے تھے۔
دوسری جانب اداکارہ مسلسل ان الزامات کی تردید کرتی آئی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ سکیش کے مجرمانہ پس منظر سے لاعلم تھیں اور انہیں نہیں معلوم تھا کہ تحائف کی رقم کا ذریعہ کیا تھا۔
واضح رہے کہ ای ڈی نے 17 اگست 2022 کو اپنی چارج شیٹ میں جیکولین فرنینڈس کو اس کیس میں نامزد کیا تھا، جبکہ بعد میں اضافی چارج شیٹ میں مزید الزامات بھی شامل کیے گئے تھے۔
عدالتی حکم کے بعد یہ مقدمہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، جہاں آئندہ سماعتوں میں شواہد اور الزامات کا مزید جائزہ لیا جائے گا۔






