ایچ آئی وی مریض کی سرجری پر پردہ پوشی، مبینہ کوتاہی اور تاخیر پر نشتر انتظامیہ سخت دباؤ کا شکار

ملتان (سٹاف رپورٹر) نشتر ہسپتال کے آپریشن تھیٹر نمبر 17 میں ڈیڑھ ہفتہ قبل ہونے والی ایچ آئی وی میں مبتلا مریض کی سرجری اور اس کے بعد کی جانے والی پردہ پوشی کے حوالے سے سینئر ڈاکٹرز اور سرجنز نے روزنامہ قوم کے نام ایک تفصیلی میسج میں مزید سوالات بھجوائے ہیں جن کی تفصیلات اس طرح سے ہیں۔
1،، کیا ایک غیر ہنگامی کولوسٹومی ریورسل پروسیجر کو بعد میں “ایمرجنسی کیس” قرار دے کر اصل حقائق سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے؟
2،، اگر یہ واقعی ایمرجنسی سرجری تھی تو پھر یہ آپریشن اس روز کی لسٹ کے آخر میں ہی کیوں ہوا؟
3،، کیا ایمرجنسی کیسز معمول کے مطابق سب سے پہلے نمٹائے نہیں جاتے؟
4،، اگر کیس ہنگامی نوعیت کا تھا تو پھر اسے ایمرجنسی بلاک یا ایمرجنسی آپریشن تھیٹر کے بجائے جنرل آپریشن تھیٹر نمبر 17 ہی میں کیوں کیا گیا؟
5،، کیا جنرل آپریشن تھیٹر میں صرف پہلے سے شیڈول شدہ اور لسٹ شدہ کیسز نہیں کیے جاتے؟
6،، اہم ترین سوال یہ ہے کہ اگر یہ کیس اچانک اور ایمرجنسی بنیادوں پر تھا تو پھر اس کی لیب رپورٹس ایک دن پہلے کیسے آرڈر ہوئیں اور کیا اس سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ سینئر ترین ڈاکٹرز اور انتظامی افسران جھوٹ اور کذب بیانی کا سہارا لے رہے ہیں؟
7،، کیا حقیقی ایمرجنسی کیسز میں ٹیسٹ اور رپورٹس فوری بنیادوں پر چند گھنٹوں یا مختصر ترین وقت میں حاصل نہیں کی جاتیں؟
8،، کیا اس کیس کی ٹائم لائن خود یہ سوال نہیں اٹھا رہی کہ اس آپریشن کا معاملہ دراصل ایک سفارشی اور الیکٹو پروسیجر تھا جسے بعد میں ایمرجنسی رنگ دیا گیا ہے؟
9،، کیا HIV اسکریننگ پازیٹو آنے کے باوجود سرجری ٹیم کو دو مرتبہ آگاہ نہیں کیا گیا تھا؟ اس لحاظ سے کیا یہ سنگین نوعیت کی دانستہ کوتاہی نہیں؟
10،، کیا ELISA ٹیسٹ سرجری ٹیم کی ہدایت پر دوبارہ کروایا گیا تھا؟
11،، اگر حتمی رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا تھا تو پھر آپریشن آگے بڑھانے کا فیصلہ کس بنیاد پر کیا گیا؟
12،، کیا مریض درد، شدید خون بہنے یا جان لیوا صورتحال میں تھا جو کہ ہماری معلومات کے مطابق نہیں تھا؟
13،، اگر ایسا تھا تو پھر “انسانی ہمدردی” یا “ایمرجنسی” کا جواز کس بنیاد پر پیش کیا جا رہا ہے؟
14،، کیا متعلقہ وارڈ، سرجری اور اینستھیزیا ٹیم کو مریض کی HIV حیثیت کے بارے میں آگاہی دی گئی تھی؟
15،، کیا لیب، آن لائن ریکارڈ، دستاویزی شواہد اور کمیونیکیشن لاگز ان معاملات کی تصدیق کرتے ہیں؟
16،، کیا اس معاملے میں الزام کا رخ بار بار تبدیل نہیں کیا جا رہا؟
17،، ایک اور اہم سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ اگر کسی سرکاری ڈاکٹر پر خود الزامات موجود ہوں تو کیا وہی شخص انکوائری یا عوامی وضاحت کا مرکزی کردار بن سکتا ہے؟ اس حوالے سے نشتر انتظامیہ کے ترجمان کیوں خاموش ہیں؟
18،، جس وارڈ یا انتظامی دائرہ کار کے تحت یہ سنگین نوعیت کا معاملہ سامنے آیا، کیا اسی سے وابستہ فرد کا تحقیقات یا بیانیے کی قیادت کرنا مفادات کے ٹکراؤ (Conflict of Interest) کے زمرے میں نہیں آتا؟
19،، کیا کسی سرکاری ڈاکٹر کے لیے پریس کانفرنس کرنا، سوشل میڈیا پر مؤقف دینا یا ذاتی بیانیہ چلانا متعلقہ پیشہ ورانہ قواعد و ضوابط کے منافی اور حکومت پنجاب کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی نہ ہے؟
20،، کیا طبی ضابطہ اخلاق، ریگولیٹری قوانین یا سرکاری سروس رولز سرکاری ڈاکٹروں کے میڈیا اور سوشل میڈیا استعمال کے حوالے سے مخصوص حدود متعین کرتے ہیں؟
21،، اگر ایسی حدود موجود ہیں تو کیا اس کیس میں ان حدود اور ضوابط کی پاسداری کی گئی؟
22،، کیا سوشل میڈیا، ویڈیوز اور عوامی بیانات کے ذریعے انکوائری سے پہلے رائے عامہ کو متاثر کرنے کی سازش کی جا رہی ہے؟
23،، کیا اس پورے معاملے میں صرف جونیئر ڈاکٹرز اور عملے کو ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے جبکہ سینئر سطح کے فیصلوں کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے تھا جن کی مکمل پشت پناہی اور سہولت کاری کی جا رہی ہے؟
24،، کیا ایک غیر جانبدار انکوائری میں سرجری، اینستھیزیا، وارڈ انتظامیہ، لیب، پیتھالوجی اور تمام متعلقہ ذمہ داران کا کردار یکساں طور پر جانچا جائے گا یا محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام سیاسی ڈاکٹروں کے سامنے ہتھیار پھینک دیں گے؟
25،، یہاں سب سے بڑا سول یہ ہے کہ آیا اس کیس میں اصل طبی حقائق سامنے آئیں گے یا متضاد بیانات، میڈیا مؤقف اور ادارہ جاتی بیانیے تحقیقات کے رخ پر اسی طرح سے اثر انداز ہوتے رہیں گے؟

شیئر کریں

:مزید خبریں